حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَبَّازِ أَبُو بَكْرٍ النَّحْوِيُّ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَحْرٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ السَّلِيطِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، قُلْتُ : فَمَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ السَّلِيطِيِّ ، إِلا أَبُو حُرَّةَ تَفَرَّدَ بِهِ سَلْمُ بْنُ سُلَيْمَانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کالا کتا، عورت اور گدھا کاٹ دیتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا کیا وجہ ہے کالا کتا سرخ پیلے سے زیادہ سخت ہے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے بھتیجے! میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے تو نے مجھ سے کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔“