کتب حدیث ›
معجم صغير للطبراني › ابواب
› باب: پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت اور لہسن و پیاز کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَبْنَا حَمْرَاءَ مِنْ حُمْرِ الْيَهُودِ ، فَذَبَحْنَاهَا ، وَطَبَخْنَاهَا ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّ لُحُومَ حُمْرَ الإِنْسِ لا تَحِلُّ ، حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصَابُوا فِي حِيطَانِهَا بَصَلا وَثُومًا ، فَأَكَلُوا مِنْهَا وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ فَرَاحُوا ، فَإِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَلا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ بَحِيرٍ ، إِلا بَقِيَّةُ ، وَلا يُرْوَى عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَقِيَّةَ بْنَ الْوَلِيدِ ، يَقُولُ اسْمُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ : لاشُومَةُ بْنُ جُرْثُومَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر جنگ کی تو ہمیں یہود کے گھریلو گدھوں میں سے کچھ گدھے ملے، تو ہم نے ان کو ذبح کر کے پکا لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ منادی کرے کہ گھریلو گدھوں کے گوشت حلال نہیں ہیں، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے۔ اس زمین کے باغوں میں انہیں ثوم یعنی لہسن اور پیاز ملا، لوگ بھوکے تھے تو انہوں نے اسے کھایا، اور آرام کرنے لگے تو مسجد ثوم کی بو اور پیاز سے بھر گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس خبیث درخت سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے۔“