کتب حدیثمعجم صغير للطبرانيابوابباب: کامل ایمان والے کی نشانیاں
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقَلْزُمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَاسِنُهُمْ أَخْلاقًا ، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ ، وَلا خَيْرَ فِيمَنْ لا يَأْلَفُ وَلا يُؤْلَفُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُيَيْنَةَ أَخِي سُفْيَانَ ، إِلا يَعْقُوبُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام لوگوں سے کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں اچھے ہوں، اور نرم پہلوؤں والے ہوں، جو دوستی رکھتے ہیں اور دوست رکھے جاتے ہیں، اور جو شخص نہ کسی کو دوست رکھے اور نہ اس کو کوئی دوست رکھے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الإيمان / حدیث: 35
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح ، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 4422، والطبراني فى «الصغير» برقم: 605، وله شواهد من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص، فأما حديث عبد الله بن عمرو بن العاص، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3559، 3759، 6029، 6035، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2321، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1975، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6615، 6936، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 477، السلسلة احاديث صحيحه:751 ، قال الشيخ الألباني: صحيح»
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَلادٍ الْقَطَّانُ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ الأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ، عَنْ عَقِيلٍ الْجَعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ أَيُّ عُرَى الإِيمَانِ أَوْثَقُ ؟ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَوْثَقُ عُرَى الإِسْلامِ : الْوِلايَةُ فِي اللَّهِ ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ ، إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا ، وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً نَجَا مِنْهَا ثَلاثٌ ، وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ ، فِرْقَةٌ أَزَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَأَخَذُوهُمْ فَقَتَلُوهُمْ وَنَشَرُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ ، وَفِرْقَةٌ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ طَاقَةٌ بِمُوَازَةِ الْمُلُوكِ وَلا أَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى دِينِ اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فَسَاحُوا فِي الْبِلادِ وَتَرَهَّبُوا وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ سورة الحديد آية 27 ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : فَمَنْ آمَنَ بِي وَاتَّبَعَنِي وَصَدَّقَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ، وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا عَقِيلٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ الصَّعْقُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! ایمان کا کون سا کڑا زیادہ مضبوط ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کا مضبوط کڑا اللہ کے لیے دوستی کرنا اور محبت کرنا اور اسی کے لیے دشمنی رکھنا ہے۔“ پھر فرمایا: ”ابن مسعود!“ میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ کون سا آدمی فضیلت والا ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں عمل کے لحاظ سے وہ بہتر ہیں جو دین میں سمجھ رکھتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا عالم وہ ہے جو لوگوں کے اختلاف کے وقت حق پر نظر رکھے، اور اگرچہ اپنے عمل میں کوتاہی کرنے والا ہو۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو گھسیٹ کر سریوں کے بل ہی آئے، تم سے پہلے لوگوں میں اختلاف بہتر (72) فرقوں پر ہوا، جن میں سے تین نجات پا گئے باقی ہلاک ہو گئے، ایک وہ تھا جس نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور اپنے دین اور عیسیٰ علیہ السلام کے دین کے متعلق ان سے جنگ کی تو انہوں نے ان کو پکڑ کر مار ڈالا اور آریوں سے چیر ڈالا۔ دوسرا وہ تھا جن میں بادشاہوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی، اور نہ ہی ان میں طاقت تھی کہ وہ لوگوں کو اللہ کے دین اور عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دیں، تو وہ شہروں میں نکل گئے اور درویش اور راہب بن گئے، اور وہ وہی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ﴾ ”رہبانیت انہوں نے خود پیدا کر لی تھی۔ ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، اللہ کی رضامندی کی تلاش کے لیے (انہوں نے اسے اپنایا)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھ پر ایمان لایا، میری پیروی اور تصدیق کی تو اس نے اس کے خیال رکھنے کا حق ادا کر دیا، اور جس نے میری پیروی نہ کی تو یہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الإيمان / حدیث: 36
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 3811، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 21131، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 376، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 10357، 10531، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 4479، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 624، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31083 ¤قال الهيثمي: وفيه عقيل بن الجعد قال البخاري منكر الحديث ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (1 / 162)»