حدیث نمبر: 3503
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: "مَنْ شَهِدَ الْقُرْآنَ حِينَ يُفْتَحُ، فَكَأَنَّمَا شَهِدَ فَتْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ شَهِدَ خَتْمَهُ حِينَ يُخْتَمُ، فَكَأَنَّمَا شَهِدَ الْغَنَائِمَ حِينَ تُقْسَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ نے مرفوعاً روایت کیا کہ جو شخص قرآن پاک کے شروع (افتتاح) میں حاضر ہوا گویا کہ وہ اللہ کے راستے کی فتح میں حاضر ہوا، اور جو ختم قرآن کے وقت حاضر ہوا تو گویا کہ وہ تقسیم غنائم کے وقت حاضر ہوا۔
حدیث نمبر: 3504
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ وَضَعَ عَلَيْهِ الرَّصَدَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ خَتْمِهِ، قَامَ فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتاده رحمہ اللہ نے کہا: مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک شخص قراءت کر رہا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے انتظار میں آدمی بٹھا دیا، جب اس نے ختم قرآن کی اطلاع دی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اٹھ کر اسی کے پاس منتقل ہو گئے۔ (یعنی ختم قرآن میں شامل ہونے کے لئے اس قاری سے آ ملے، اس سے ختم قرآن میں حاضری کی فضیلت معلوم ہوئی۔)
حدیث نمبر: 3505
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا أَشْفَى عَلَى خَتْمِ الْقُرْآنِ، بِاللَّيْلِ بَقَّى مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى يُصْبِحَ فَيَجْمَعَ أَهْلَهُ، فَيَخْتِمَهُ مَعَهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب ختم قرآن کے قریب پہنچتے تو صبح صادق تک کے لئے تھوڑا سا قرآن باقی رہنے دیتے، پھر اپنے اہل و عیال کو جمع کرتے اور ان کے ساتھ قرآن ختم کرتے۔
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ: "كَانَ أَنَسٌ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ، جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ، فَدَعَا لَهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ثابت البنانی نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک ختم کرتے تو اپنے بچوں اور گھر والوں کو جمع کر لیتے اور سب کے لئے دعا کرتے۔
حدیث نمبر: 3507
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ: "إِذَا خَتَمَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ بِنَهَارٍ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ فَرَغَ مِنْهُ لَيْلًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدہ نے کہا: جب کوئی آدمی دن میں قرآن پاک ختم کرتا ہے تو شام تک فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں، اور رات میں اس کی قراءت سے فارغ ہوا تو صبح تک فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ"، قِيلَ: وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ ؟ قَالَ: صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ، كُلَّمَا حَلَّ، ارْتَحَلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
زرارہ بن ابی اوفی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: ”پڑاو ڈالنا اور کوچ کرنا“، پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ فرمایا: ”قرآن پڑھنے والا شروع سے آخر تک پڑھتا ہے (یہ شروع کرنا حال ہے)، پھر ختم کر کے دوبارہ شروع کرنا (ارتحال) ہے، جب بھی ختم کرے پھر شروع کر دے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3502 سے 3508)
گرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن علمائے کرام نے اس عمل کو مستحب گردانا ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے التبیان میں ذکر کیا ہے، سماحۃ الشیخ علامہ مفتی عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی، ایک بار تراویح میں ختمِ قرآن کے بعد ناچیز سے کہا تھا: پھر سورۂ بقرہ شروع کر دیتے تو اچھا تھا۔
گرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن علمائے کرام نے اس عمل کو مستحب گردانا ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے التبیان میں ذکر کیا ہے، سماحۃ الشیخ علامہ مفتی عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی، ایک بار تراویح میں ختمِ قرآن کے بعد ناچیز سے کہا تھا: پھر سورۂ بقرہ شروع کر دیتے تو اچھا تھا۔
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ نَهَارًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَرَأَهُ لَيْلًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ" . قَالَ سُلَيْمَانُ: فَرَأَيْتُ أَصْحَابَنَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يَخْتِمُوهُ أَوَّلَ النَّهَارِ، وَأَوَّلَ اللَّيْلِ .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے کہا: جب کوئی آدمی دن کے شروع میں قرآن پڑھ لے تو شام تک اس کے لئے فرشتے دعا کرتے ہیں اور اگر رات میں پڑھا (یعنی ختم کیا) تو صبح تک فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (اعمش) سلیمان نے کہا: اسی لئے ہم نے اپنے ہم عصر ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ دن کے شروع اور رات کے شروع میں قرآن ختم کرنے کو پسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ قَوْلُ سُلَيْمَانَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مثل سابق مروی ہے لیکن اس میں سلیمان الاعمش کا قول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ، كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا، أَوْ فِي الْآخِرَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محارب بن دثار رحمہ اللہ نے کہا: جس نے منہ زبانی قرآن پڑھا اس کے لئے دنیا و آخرت میں دعوة ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3508 سے 3511)
دعوت کے معنی پکار اور دعا اور ضیافت و مہمانی کے ہیں۔
دعوت کے معنی پکار اور دعا اور ضیافت و مہمانی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّيْلِ"، وَقَالَ الْآخَرُ: "غُفِرَ لَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
طلحہ اور عبدالرحمٰن بن الاسود دونوں نے کہا: جس شخص نے رات یا دن میں قرآن پاک کی قراءت کی تو فرشتے رات تک اس کے لئے دعا کرتے ہیں، دوسرے نے کہا: اس کی مغفرت ہو گئی۔
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ثُمَّ دَعَا، أَمَّنَ عَلَى دُعَائِهِ أَرْبَعَةُ آلَافِ مَلَكٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید الاعرج رحمہ اللہ نے کہا: جو شخص قرآن پاک پڑھ کر دعا کرے اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ مجاهدٌ، قَالَ: إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْقُرْآنَ، وَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَدَعَوْا بِدَعَوَاتٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: میرے پاس بلاوا آیا اور کہا کہ ہم آپ کو ختم قرآن میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اور انہوں نے دعائیں کیں۔
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ، عَنْ عَنْبسة، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: "إِذَا وَافَقَ خَتْمُ الْقُرْآنِ أَوَّلَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَإِنْ وَافَقَ خَتْمُهُ آخِرَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، فَرُبَّمَا بَقِيَ عَلَى أَحَدِنَا الشَّيْءُ، فَيُؤَخِّرَهُ حَتَّى يُمْسِيَ أَوْ يُصْبِحَ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا حَسَنٌ عَنْ سَعْدٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ختم قرآن رات کے شروع حصے میں ہو جائے، تو اس کے صبح کرنے تک فرشتے اس (قاری) کے لئے دعا کرتے ہیں، اور اگر رات کے آخری حصے میں ختم قرآن کا اتفاق ہوا تو اس پر فرشتے شام تک دعا کرتے ہیں، اس لئے ہم میں سے کسی کا ختم قرآن میں سے کچھ باقی رہ جائے تو وہ شام کے لئے یا صبح کے لئے ختم کرنا مؤخر کر دے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ روایت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے حسن ہے۔
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ابْنِ أَخِي بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: "حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے کہا: حاملین قرآن جنت میں نقیب (مانیٹر) ہوں گے۔
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ "يَخْتِمُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَتَيْنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالملک نے خبر دی کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ ہر دوسری رات میں قرآن پاک ختم کر لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَخْتِمُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أنا أُطِيقُ، قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي خَمْسة وَعِشْرِينَ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي عِشْرِينَ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي عَشْرٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي خَمْسٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: "لَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کتنے دن میں قرآن پاک ختم کروں؟ فرمایا: ”ایک مہینے میں“، میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے؟ فرمایا: ”پچیس دن میں ختم کر لو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ”پندرہ دن میں ختم کرو“، میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، فرمایا: ”دس دن میں ختم کرو“، میں نے کہا: اس سے زیادہ کی میں طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ”پانچ دن میں ختم کرو“، میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کم میں نہیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3511 سے 3518)
اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم پانچ دن میں قرآن ختم کرنا چاہے، بعض روایاتِ صحیحہ میں تین دن کا بھی ذکر ہے، کما سیأتی، لیکن ایک مہینے سے زیادہ ختمِ قرآن میں نہیں لگنا چاہے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو صرف رمضان میں قرآن پاک پڑھتے اور سنتے ہیں، اور پورے سال تلاوتِ کلام پاک سے غافل رہتے ہیں۔
«(هدانا اللّٰه وإياهم، آمين)»
اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم پانچ دن میں قرآن ختم کرنا چاہے، بعض روایاتِ صحیحہ میں تین دن کا بھی ذکر ہے، کما سیأتی، لیکن ایک مہینے سے زیادہ ختمِ قرآن میں نہیں لگنا چاہے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو صرف رمضان میں قرآن پاک پڑھتے اور سنتے ہیں، اور پورے سال تلاوتِ کلام پاک سے غافل رہتے ہیں۔
«(هدانا اللّٰه وإياهم، آمين)»
حدیث نمبر: 3519
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: "أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے کم میں قرآن پاک ختم کرنے سے منع فرمایا۔