حدیث نمبر: 3480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ أَخِي أُمِّ الدَّرْدَاءِ فِي اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَكَانَ سَالِمٍ: رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایک رات میں سو آیات پڑھ لیں وہ غافلین (قرآن سے غفلت برتنے والوں) میں نہیں لکھا جائے گا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض رواۃ نے ”سالم“ کے بجائے راشد بن سعد کا نام ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3481
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس شخص نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں وہ قانتین میں لکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں اس کے لئے ایک رات کا قنوت لکھا جائے گا۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3477 سے 3482)
قنت کے معنی اطاعت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، اور عاجزی و گریہ زاری کرنا ہے، اور قانتین کا مطلب اطاعت گذار اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238]» یعنی اللہ کے سامنے (نماز میں) خاموشی سے کھڑے رہو، اور مؤمنین کی ایک صفت «﴿وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ﴾ [الأحزاب: 35]» بھی ہے۔
قنت کے معنی اطاعت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، اور عاجزی و گریہ زاری کرنا ہے، اور قانتین کا مطلب اطاعت گذار اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238]» یعنی اللہ کے سامنے (نماز میں) خاموشی سے کھڑے رہو، اور مؤمنین کی ایک صفت «﴿وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ﴾ [الأحزاب: 35]» بھی ہے۔
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: "مَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے سو آیات پڑھ لیں وہ قانتین (اطاعت گزاروں) میں لکھ لیا گیا۔
حدیث نمبر: 3484
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا تمیم داری اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا: جس نے رات میں سو آیات پڑھیں وہ قانتین میں لکھ لیا گیا۔
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے رات میں سو آیات پڑھ لیں وہ قانتین میں لکھ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے سو آیات پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3482 سے 3486)
یہ تمام آثار و اقوال ہیں، اس میں شک نہیں کہ رات میں قرآن پاک پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، اور قرآن پاک جس وقت بھی جتنا بھی پڑھا جائے باعثِ خیر و برکت ہے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من التالين لكتابه» آمین۔
یہ تمام آثار و اقوال ہیں، اس میں شک نہیں کہ رات میں قرآن پاک پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، اور قرآن پاک جس وقت بھی جتنا بھی پڑھا جائے باعثِ خیر و برکت ہے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من التالين لكتابه» آمین۔