حدیث نمبر: 3460
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا إِيَاسٌ الْبِكَالِيُّ، عَنْ نَوْفٍ الْبِكَالِيِّ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نوف بن فضالہ بکالی نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی تقسیم تین جزء میں کی اور «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» کو ایک تہائی قرار دیا۔
حدیث نمبر: 3461
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَقِيلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: "مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، بُنِيَ لَهُ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِينَ مَرَّةً، بُنِيَ لَهُ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً، بُنِيَ لَهُ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُورٍ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ لَتَكَّثُرَنَّ قُصُورُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُ أَوْسَعُ مِنْ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ مِنْ الْأَبْدَالِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعقیل نے خبر دی کہ انہوں نے سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دس بار «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» (سورة الاخلاص) پڑھی اس کے لئے جنت میں اسی وجہ سے ایک محل تیار کیا جائے گا، اور جس نے بیس مرتبہ اس کو پڑھا اس کے لئے اسی وجہ سے دو محل تعمیر کئے جائیں گے، اور جس نے تیس بار اس کو پڑھا اس کے لئے تین محل جنت میں ہوں گے“، اس پر سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر تو اے اللہ کے رسول ہم بہت کثرت سے محل بنائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ وسعت دینے والا ہے۔“ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوعقیل کا نام زہرہ بن معبد ہے، اور کہا جاتا تھا کہ وہ ابدال (پہنچے ہوئے بزرگ) میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 3462
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ كَانَ "إِذَا قَرَأَ سُورَةً فَخَتَمَهَا، أَتْبَعَهَا بِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عقبہ بن ضمرہ بن حبیب نے اپنے والد سے روایت کیا کہ وہ جب بھی کوئی سورت پڑھ کر ختم کرتے تو اس کے بعد «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3463
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ قَالُوا: نَحْنُ أَعْجَزُ وَأَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم اتنا قرآن ایک رات میں پڑھنے سے عاجز و کمزور ہیں (یعنی کسی طرح ثلث قرآن نہیں پڑھ سکتے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ نے قرآن کو تین حصوں میں تقسیم کیا (یعنی معانی و مفاہیم کے اعتبار سے قصص، احکام، صفات (باری تعالیٰ) اور «قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ» (سورہ الاخلاص) کو تیسرا حصہ قرار دیا۔ (جس میں الله تعالیٰ کی جامع صفات مذکور ہیں)۔“
حدیث نمبر: 3464
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ: أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: «قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ» (سورہ الاخلاص) تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 3465
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ: .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: «قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ» ثلث قرآن کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 3466
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3467
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ )، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے کہا: قسم اللہ کی میں اس سورت «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» کو بہت محبوب رکھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری (اس سورت سے) اس محبت نے تمہیں جنت میں داخل کرا دیا۔“
حدیث نمبر: 3468
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: "ثُلُثُ الْقُرْآنِ، أَوْ تَعْدِلُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی قرآن ہے“ یا ”تہائی قرآن کے برابر ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3459 سے 3468)
ان روایات سے پتہ چلا کہ کوئی شخص اگر تین بار «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» پڑھے تو اس کو پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ہے، اسی لئے خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت معوذتین کے ساتھ اس سورت کو ہمیشہ پڑھا کرتے تھے، اور اس کو تہائی قرآن ایک قول کے مطابق اس لئے کہا گیا کہ قرآن پاک میں تین قسم کے مضامین ہیں: ۱- توحيد . . . ۲- رسالت . . . 3- اعمال
اس سورت میں توحید کا بیان ہے اور اس میں توحید کی تینوں اقسام موجود ہیں، اس لئے ثلث قرآن ہے۔
ان روایات سے پتہ چلا کہ کوئی شخص اگر تین بار «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» پڑھے تو اس کو پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ہے، اسی لئے خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت معوذتین کے ساتھ اس سورت کو ہمیشہ پڑھا کرتے تھے، اور اس کو تہائی قرآن ایک قول کے مطابق اس لئے کہا گیا کہ قرآن پاک میں تین قسم کے مضامین ہیں: ۱- توحيد . . . ۲- رسالت . . . 3- اعمال
اس سورت میں توحید کا بیان ہے اور اس میں توحید کی تینوں اقسام موجود ہیں، اس لئے ثلث قرآن ہے۔
حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: أَتَاهَا فَقَالَ: أَلَا تَرَيْنَ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: رُبَّ خَيْرٍ قَدْ أَتَانَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا هُوَ ؟ قَالَ: قَالَ لَنَا: "أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ"؟ قَالَ: فَأَشْفَقْنَا أَنْ يُرِيدَنَا عَلَى أَمْرٍ نَعْجِزُ عَنْهُ، فَلَمْ نَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَد، اللَّهُ الصَّمَدُ ) ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، انہوں نے انصار کی ایک خاتون سے روایت کیا کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: تم جانتی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا چیز لے کر آئے ہیں؟ اس خاتون انصاری صحابیہ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بہت ساری بھلائیاں لے کر تشریف لائے ہیں، تم بتاؤ کیا خبر لائے ہو؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کہا: ”کیا تم میں سے کوئی ایک رات میں ثلث قرآن پڑھنے سے عاجز رہتا ہے؟“ ہم کو ڈر لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ایساعمل کرانا چاہتے ہیں جس کی ہم قدرت نہیں رکھتے، لہٰذا ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ سوال دہرایا اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کو اتنی طاقت نہیں کہ وہ «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ، اللّٰهُ الصَّمَدُ﴾» سورہ اخلاص پڑھ لے؟“
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ أُمِّ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ خَمْسِينَ مَرَّةً، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَ خَمْسِينَ سَنَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پچاس بار «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» پڑھے گا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3468 سے 3470)
سورہ الاخلاص ایسی مبارک سورۂ شریفہ ہے جو الله تعالیٰ کی صفاتِ مبارکہ سے بھر پور ہے، اس میں اللہ پاک کا ایک ہونا، بے پرواہ معبود ہونا، ولد سے (اولاد سے) پاک ہونا، کسی سے پیدا نہ ہونا، اس کی ذات کا کوئی ہم سر نہ ہونا یعنی بے مثل ہونا مذکور ہے، اتنی عمده اور مبنی برحقیقت صفات اس سورہ شریفہ میں بڑے اختصار سے ذکر کی گئی ہیں، جو ان صفات کو سمجھے اور محبت رکھے اور اس کو پڑھتا رہے یقیناً الله تعالیٰ بھی اس سے محبت کرے گا، اور اس کی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے اس بندے کے گناہ بخش دے، دونوں جہان میں عافیت عنایت کرے، اور اپنی اطاعت کی توفیق بخشے، اور بندے کو یہ چاہیے کہ صرف الله تعالیٰ کی عبادت و بندگی، اطاعت و فرماں برداری صدقِ دل اور اخلاص سے کرے، دل سے اس کو یاد کرے، اس کی محبت، اسماء و صفات سے لگاؤ سارے جہاں سے مقدم رکھے۔
(وحیدی بتصرف)۔
یہ الله تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ بعض آیات اور سورتوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور بزبانِ نبوت ان کی فضیلت بیان فرما دی تاکہ عاصی و گنہگار انسان اللہ تعالیٰ کی بے انتہا نعمتوں اور رحمتوں سے اپنا دامن بھرتا رہے اور سعادت دارین اس کو نصیب ہو، عمل تھوڑا سا کرے اور اجر و ثواب اتنا زیادہ کہ تصور میں نہ آئے، الله تعالیٰ سمجھ اور عمل کی ہمیں توفیق بخشے، آمین۔
اور جن آیات اور سورتوں کی فضیلت حدیثِ صحیح سے ثابت نہ ہو اس پر عمل نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ جس آیت یا سورت میں کوئی فضیلت تھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا، جس کی کوئی فضیلت نہیں اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔
سورہ الاخلاص ایسی مبارک سورۂ شریفہ ہے جو الله تعالیٰ کی صفاتِ مبارکہ سے بھر پور ہے، اس میں اللہ پاک کا ایک ہونا، بے پرواہ معبود ہونا، ولد سے (اولاد سے) پاک ہونا، کسی سے پیدا نہ ہونا، اس کی ذات کا کوئی ہم سر نہ ہونا یعنی بے مثل ہونا مذکور ہے، اتنی عمده اور مبنی برحقیقت صفات اس سورہ شریفہ میں بڑے اختصار سے ذکر کی گئی ہیں، جو ان صفات کو سمجھے اور محبت رکھے اور اس کو پڑھتا رہے یقیناً الله تعالیٰ بھی اس سے محبت کرے گا، اور اس کی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے اس بندے کے گناہ بخش دے، دونوں جہان میں عافیت عنایت کرے، اور اپنی اطاعت کی توفیق بخشے، اور بندے کو یہ چاہیے کہ صرف الله تعالیٰ کی عبادت و بندگی، اطاعت و فرماں برداری صدقِ دل اور اخلاص سے کرے، دل سے اس کو یاد کرے، اس کی محبت، اسماء و صفات سے لگاؤ سارے جہاں سے مقدم رکھے۔
(وحیدی بتصرف)۔
یہ الله تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ بعض آیات اور سورتوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور بزبانِ نبوت ان کی فضیلت بیان فرما دی تاکہ عاصی و گنہگار انسان اللہ تعالیٰ کی بے انتہا نعمتوں اور رحمتوں سے اپنا دامن بھرتا رہے اور سعادت دارین اس کو نصیب ہو، عمل تھوڑا سا کرے اور اجر و ثواب اتنا زیادہ کہ تصور میں نہ آئے، الله تعالیٰ سمجھ اور عمل کی ہمیں توفیق بخشے، آمین۔
اور جن آیات اور سورتوں کی فضیلت حدیثِ صحیح سے ثابت نہ ہو اس پر عمل نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ جس آیت یا سورت میں کوئی فضیلت تھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا، جس کی کوئی فضیلت نہیں اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔