حدیث نمبر: 3458
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُهَاجِرٍ، قَالَ: "جَاءَ رَجُل زَمَنَ زِيَادٍ إِلَى الْكُوفَةِ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، قَالَ: وَرُكْبَتِي تُصِيبُ أَوْ تَمَسُّ رُكْبَتَهُ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، قَالَ: "بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ"، وَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قَالَ: غُفِرَ لَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالحسن مہاجر نے کہا: زیاد کے زمانے میں ایک صحابی کوفہ تشریف لائے، میں نے ان کو سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ راستے میں تھا اور میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے مبارک سے مس (ٹچ) ہو رہا تھا، آپ نے ایک صحابی کو سنا وہ « ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ » پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص شرک سے بری ہو گیا“، ایک دوسرے شخص کو «﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾» پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”اس کی مغفرت ہو گئی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 3457)
اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی اور ان دونوں صحابہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ یہ شخص شرک سے بری ہو گیا اور یہ بخش دیا گیا اسی بات کی دلیل ہے کہ ایمان و یقین اور اعتقادِ سلیم سے جس شخص نے ان سورتوں کو پڑھا وہ یقین کے ساتھ ان مراتبِ عالیہ کا مستحق ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الله تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ان پاکیزہ نفوس نے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صرف اس کی عبادت کا بیڑا اٹھایا، شرک سے برأت ظاہر کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں شرک سے بری کر کے اور مغفرت دے کر جنّت کا مستحق قرار دے دیا۔
اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی اور ان دونوں صحابہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ یہ شخص شرک سے بری ہو گیا اور یہ بخش دیا گیا اسی بات کی دلیل ہے کہ ایمان و یقین اور اعتقادِ سلیم سے جس شخص نے ان سورتوں کو پڑھا وہ یقین کے ساتھ ان مراتبِ عالیہ کا مستحق ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الله تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ان پاکیزہ نفوس نے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صرف اس کی عبادت کا بیڑا اٹھایا، شرک سے برأت ظاہر کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں شرک سے بری کر کے اور مغفرت دے کر جنّت کا مستحق قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 3459
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ"، قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي، قَالَ: "فَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ، فَاقْرَأْ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنْ الشِّرْكِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
فروہ بن نوفل نے اپنے والد (سیدنا نوفل رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: کیا چیز تم کو (میرے پاس) لے کر آئی؟ عرض کیا: میں اس لئے حاضر ہوا کہ آپ مجھ کو کوئی ایسی چیز یاد کرا دیں جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بستر پر لیٹ جاؤ تو «﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾» پڑھ لو اور اس کے اختتام پر سو جاؤ کیونکہ یہ سورت شرک سے براءت ہے۔“ (یعنی شرک سے بری کرنے والی ہے)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3458)
اس حدیث سے سورۃ الکافرون کی فضیلت معلوم ہوئی، اس وجہ سے کہ اس میں معبودانِ باطل کی عبادت کا صریح انکار اور اپنے دین پر قائم رہنے کا اقرار ہے۔
اس حدیث سے سورۃ الکافرون کی فضیلت معلوم ہوئی، اس وجہ سے کہ اس میں معبودانِ باطل کی عبادت کا صریح انکار اور اپنے دین پر قائم رہنے کا اقرار ہے۔