حدیث نمبر: 3452
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ "مَنْ قَرَأَ ( حم ) الدُّخَانَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِيمَانًا وَتَصْدِيقًا بِهَا، أَصْبَحَ مَغْفُورًا لَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عیسیٰ نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ جس نے جمعہ کی رات میں سورۂ دخان ایمان و تصدیق کے ساتھ پڑھی، وہ صبح کو اٹھے گا تو بخش دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3453
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ ( حم ) الدُّخَانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، أَصْبَحَ مَغْفُورًا لَهُ، وَزُوِّجَ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابورافع نے کہا: جس نے جمعہ کی رات کو سورہ دخان کو پڑھا وہ بخش دیا گیا، اور حورعین سے اس کا بیاہ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 3454
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كُنَّ ! الْحَوَامِيمُ يُسَمَّيْنَ الْعَرَائِسَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعد بن ابراہیم نے کہا: حم سے شروع ہونے والی سورتوں کو دلہن کہا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 3455
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ إِذَا أَصْبَحَ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، طُبِعَ بِطَابَعِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ قَرَأَ إِذَا أَمْسَى، فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ، طُبِعَ بِطَابَعِ الشُّهَدَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جو شخص سورہ حشر کی آخری تین آیات پڑھے اور اسی دن وہ مر گیا تو اس پر شہیدوں کی مہر لگا دی جائے گی، اور اگر شام کو پڑھے اور رات میں فوت ہو گیا تب بھی وہ شہیدوں میں شمار ہو گا۔
حدیث نمبر: 3456
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْنٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ"يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَيَقُولُ: "إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً تَعْدِلُ أَلْفَ آيَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت مسبحات (یعنی جن سورتوں کے شروع میں «سبح، يسبح» ہے) پڑھتے تھے اور فرماتے تھے: ”ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں کے برابر ہے۔“
حدیث نمبر: 3457
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَالَهَا مَسَاءً، فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» کے بعد سورہ حشر کی آخری تین آیات پڑھے گا الله تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے متعین کر دیتا ہے جو شام تک اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کو پڑھے گا تو اسی طرح صبح تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3445 سے 3457)
تنبیہ: سند میں کلام ہونا، یا مرسل و موقوف ہونا، یہ سب ضعف کی علامات ہیں یعنی وہ روایت ضعیف ہے۔
تنبیہ: سند میں کلام ہونا، یا مرسل و موقوف ہونا، یہ سب ضعف کی علامات ہیں یعنی وہ روایت ضعیف ہے۔