حدیث نمبر: 3432
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "السَّبْعُ الطُّوَلُ مِثْلُ التَّوْرَاةِ، وَالْمِئِينَ مِثْلُ الْإِنْجِيلِ، وَالْمَثَانِي مِثْلُ الزَّبُورِ، وَسَائِرُ الْقُرْآنِ بَعْدُ فَضْلٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن کی پہلی سات لمبی سورتیں توراہ کی طرح ہے، اور دو سو آیات والی سورتیں انجیل جیسی ہیں، اور باقی سورتیں زبور کی طرح، اور اس کے بعد سارا قرآن ان آسمانی کتب پر زائد ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3431)
علمائے قرأت و تفسیر نے قرآن پاک کی 114 سورتوں کو چار منازل میں تقسیم کیا ہے: (1) پہلا درجہ السبع الطّوال یعنی سات بڑی سورتیں ہیں جو سورۂ بقرہ سے لے کر سورۂ توبہ تک، اور بعض کے نزدیک سورۂ یونس تک، (2) دوسرا درجہ میئین یعنی 100 آیات کے قریب والی سورتیں سورۂ ہود یا سورۂ یونس سے شروع ہوتی ہیں، (3) تیسری قسم مثانی کی ہے جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور یہ سورة الفتح تک ہیں، (4) چوتھی قسم مفصل کی ہے جو سورۂ قاف یا سورۂ حجرات سے شروع ہوتی ہے، اور مفصل اس لئے ان کا نام رکھا گیا کہ ان کے درمیان بار بار بسم اللہ ذکر کی گئی ہے اور یہ ایک سورت سے دوسری سورت کے درمیان حدِ فاصل ہے، اور اس کی تین قسمیں ہیں: 1۔
طوال مفصل سورۂ عم سے سورۂ انشقاق تک یا سورۂ بروج تک، اس سے سورۃ الضحیٰ تک اوساط مفصل، اور سورۃ الضحیٰ کے بعد سورۃ الناس تک قصار مفصل ہے۔
علمائے قرأت و تفسیر نے قرآن پاک کی 114 سورتوں کو چار منازل میں تقسیم کیا ہے: (1) پہلا درجہ السبع الطّوال یعنی سات بڑی سورتیں ہیں جو سورۂ بقرہ سے لے کر سورۂ توبہ تک، اور بعض کے نزدیک سورۂ یونس تک، (2) دوسرا درجہ میئین یعنی 100 آیات کے قریب والی سورتیں سورۂ ہود یا سورۂ یونس سے شروع ہوتی ہیں، (3) تیسری قسم مثانی کی ہے جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور یہ سورة الفتح تک ہیں، (4) چوتھی قسم مفصل کی ہے جو سورۂ قاف یا سورۂ حجرات سے شروع ہوتی ہے، اور مفصل اس لئے ان کا نام رکھا گیا کہ ان کے درمیان بار بار بسم اللہ ذکر کی گئی ہے اور یہ ایک سورت سے دوسری سورت کے درمیان حدِ فاصل ہے، اور اس کی تین قسمیں ہیں: 1۔
طوال مفصل سورۂ عم سے سورۂ انشقاق تک یا سورۂ بروج تک، اس سے سورۃ الضحیٰ تک اوساط مفصل، اور سورۃ الضحیٰ کے بعد سورۃ الناس تک قصار مفصل ہے۔
حدیث نمبر: 3433
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: "الْأَنْعَامُ مِنْ نَوَاجِبِ الْقُرْآنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن خلیفہ سے مروی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ الانعام نواجب قرآن سے ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3432)
یعنی سورۃ الانعام قرآن کی افضل سورتوں میں سے ہے۔
یعنی سورۃ الانعام قرآن کی افضل سورتوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 3434
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبًا، قَالَ: "فَاتِحَةُ التَّوْرَاةِ الْأَنْعَامُ، وَخَاتِمَتُهَا هُودٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن رباح سے مروی ہے، سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے کہا: توراۃ کی پہلی سورت سورهٔ انعام ہے اور آخری سورت ہود ہے۔
حدیث نمبر: 3435
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ كَعْبٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "اقْرَءُوا سُورَةَ هُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن رباح نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن سورہ ہود پڑھو۔“
حدیث نمبر: 3436
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقْرَءُوا سُورَةَ هُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن رباح سے مروی ہے، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن «هود» پڑھو۔“