حدیث نمبر: 3402
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالملک بن عمیر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ میں ہر بیماری سے شفاء ہے۔“
حدیث نمبر: 3403
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: "مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ سورة الأنفال آية 24، قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ ؟، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید بن المعلی الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے (وفي البخاری: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے کوئی جواب نہ دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا الله تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ . . . . . .﴾» [انفال: 24/8] ”اے مومنو! جب اللہ اور رسول تم کو بلائیں تو ہاں میں جواب دو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تم کو قرآن کی عظیم ترین سورۃ بتاؤں گا“، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”وہ عظیم ترین سورۃ الحمد للہ رب العالمین (یعنی سورہ فاتحہ ہے) جو سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو تمہیں عطا کیا گیا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3400 سے 3403)
«سبع المثاني» وہ سات آیات جو نماز میں بھی بار بار پڑھی جاتی ہیں، اس کے بغیر کوئی رکعت صحیح نہیں ہوتی، اور اس کو نماز میں امام، مقتدی، منفرد سب کو پڑھنا واجب ہے، یہ قرآنِ عظیم ہے۔
«سبع المثاني» وہ سات آیات جو نماز میں بھی بار بار پڑھی جاتی ہیں، اس کے بغیر کوئی رکعت صحیح نہیں ہوتی، اور اس کو نماز میں امام، مقتدی، منفرد سب کو پڑھنا واجب ہے، یہ قرآنِ عظیم ہے۔
حدیث نمبر: 3404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَاتِحَةُ الْكِتَابِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاتحۃ الکتاب ہی سبع المثانی ہے۔“
حدیث نمبر: 3405
حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ مِثْلُهَا يَعْنِي: أُمَّ الْقُرْآنِ وَإِنَّهَا لَسَبْعٌ مِنْ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توراۃ، زبور، انجیل اور قرآن تک میں اس کے مثل سورت نازل نہیں ہوئی، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اُم القرآن تھی) جو سبع المثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کی گئی۔“
حدیث نمبر: 3406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْحَمْدُ لِلَّهِ أُمُّ الْقُرْآنِ، وَأُمُّ الْكِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الحمد لله اُم القرآن، اُم الکتاب اور سبع المثانی ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3403 سے 3406)
قرآن پاک اور احادیثِ رسول میں سورۃ الفاتحہ کے متعدد نام مذکور ہیں، جن میں سے چار نام اوپر ذکر کئے گئے، الفاتحہ یا فاتحۃ الكتاب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ مصحف کی کتابت میں سب سے پہلے یہ ہی سورت لکھی جاتی ہے، نماز میں بھی سب سے پہلے دعا استفتاح کے بعد اس کی قرأت ہوتی ہے، اُم الکتاب یا اُم القرآن یا اساس قرآن بھی اس کو کہا جاتا ہے کیوں کہ قرآن پاک کی تعلیمات کا یہ لب لباب ہے، اس کا نام الشفاء بھی ہے جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث میں ہے، الرقیہ بھی اس سورہ کا نام ہے کیوں کہ صحابہ کرام اس کو پڑھ کر مریض و بیمار پر دم کرتے تھے، الوافیۃ اور الکافیۃ بھی اس کو کہتے ہیں، اس سورۂ شریفہ کے بہت سارے فضائل ہیں۔
اس کے لئے دیکھئے: «تفسير ابن كثير و تفسير القرطبي.»
قرآن پاک اور احادیثِ رسول میں سورۃ الفاتحہ کے متعدد نام مذکور ہیں، جن میں سے چار نام اوپر ذکر کئے گئے، الفاتحہ یا فاتحۃ الكتاب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ مصحف کی کتابت میں سب سے پہلے یہ ہی سورت لکھی جاتی ہے، نماز میں بھی سب سے پہلے دعا استفتاح کے بعد اس کی قرأت ہوتی ہے، اُم الکتاب یا اُم القرآن یا اساس قرآن بھی اس کو کہا جاتا ہے کیوں کہ قرآن پاک کی تعلیمات کا یہ لب لباب ہے، اس کا نام الشفاء بھی ہے جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث میں ہے، الرقیہ بھی اس سورہ کا نام ہے کیوں کہ صحابہ کرام اس کو پڑھ کر مریض و بیمار پر دم کرتے تھے، الوافیۃ اور الکافیۃ بھی اس کو کہتے ہیں، اس سورۂ شریفہ کے بہت سارے فضائل ہیں۔
اس کے لئے دیکھئے: «تفسير ابن كثير و تفسير القرطبي.»