حدیث نمبر: 3388
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَغَلَهُ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ عَنْ مَسْأَلَتِي وَذِكْرِي، أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ ثَوَابِ السَّائِلِينَ، وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ، كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو قرآن پاک کی تلاوت نے مجھ سے سوال کرنے اور میری یاد سے مشغول رکھا میں نے اس کو سوال کرنے والوں سے اچھا اجر و ثواب دیا، اور اللہ کے کلام کی بزرگی تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسی اللہ تعالیٰ کی بزرگی و عظمت اپنی مخلوق پر ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3386 سے 3388)
ترمذی وغیرہ میں ہے الله تعالیٰ فرماتا ہے: جس کو مشغول کیا ..... یعنی حدیثِ قدسی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو قرآن کی تلاوت نے اوراد و وظائف اور دعا سے مشغول رکھا یعنی قرآن پڑھتا رہا دعا نہ بھی کی تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو دعا مانگنے والوں سے زیادہ دنیا و آخرت میں عطا فرمائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنا سارے وظائف سے زیادہ افضل ہے۔
ترمذی وغیرہ میں ہے الله تعالیٰ فرماتا ہے: جس کو مشغول کیا ..... یعنی حدیثِ قدسی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو قرآن کی تلاوت نے اوراد و وظائف اور دعا سے مشغول رکھا یعنی قرآن پڑھتا رہا دعا نہ بھی کی تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو دعا مانگنے والوں سے زیادہ دنیا و آخرت میں عطا فرمائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنا سارے وظائف سے زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 3389
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى كَلَامِ خَلْقِهِ، كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شہر بن حوشب نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا: ”اللہ کے کلام کی فضیلت مخلوق کے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی فضیلت اپنی مخلوق پر ہے۔“
حدیث نمبر: 3390
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ شُيُوخِ مِصْرَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "الْقُرْآنُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پاک اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سے زیادہ محبوب و پیارا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3388 سے 3390)
ان تمام احادیث سے کلام الله العزیز کی فضیلت معلوم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ سب کو تدبر و تفہم سے قرآن پڑھنے اور اس پر غور کرنے کی پھر اس پر عمل کی توفیق بخشے، آمین۔
ان تمام احادیث سے کلام الله العزیز کی فضیلت معلوم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ سب کو تدبر و تفہم سے قرآن پڑھنے اور اس پر غور کرنے کی پھر اس پر عمل کی توفیق بخشے، آمین۔