حدیث نمبر: 3373
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "أَكْثِرُوا تِلَاوَةَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، قَالُوا: هَذِهِ الْمَصَاحِفُ تُرْفَعُ، فَكَيْفَ بِمَا فِي صُدُورِ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: يُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا فَيُصْبِحُونَ مِنْهُ فُقَرَاءَ، وَيَنْسَوْنَ قَوْلَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَقَعُونَ فِي قَوْلِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَشْعَارِهِمْ، وَذَلِكَ حِينَ يَقَعُ عَلَيْهِمْ الْقَوْلُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کثرت سے قرآن کی تلاوت کرو اس سے پہلے کہ وہ اٹھا لیا جائے، لوگوں نے کہا: یہ مصاحف اٹھا لئے جائیں گے لیکن لوگوں کے سینوں سے کیسے (قرآن) اٹھایا جائے گا؟ جواب دیا کہ ان پر ایک رات گزرے گی کہ وہ اس سے محروم ہو جائیں گے اور لا الہ الا الله تک کہنا بھول جائیں گے اور جاہلیت کے قول اشعار میں پڑ جائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان پر الله کا قول واقع ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 3374
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: كَانَ قَتَادَةُ، يَقُولُ: "اعْمُرُوا بِهِ قُلُوبَكُمْ، وَاعْمُرُوا بِهِ بُيُوتَكُمْ"، قَالَ: أُرَاهُ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلام بن ابی مطیع نے کہا: قتادہ رحمہ اللہ کہتے تھے: اپنے دلوں کو آباد کرو، اور اپنے گھروں کو آباد رکھو۔ راوی نے کہا: میرے خیال میں ان کا مقصد تھا قرآن سے آباد کرو۔
حدیث نمبر: 3375
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "لَيُسْرَيَنَّ عَلَى الْقُرْآنِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَا يُتْرَكُ آيَةٌ فِي مُصْحَفٍ، وَلَا فِي قَلْبِ أَحَدٍ، إِلَّا رُفِعَتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک رات قرآن پاک پر ایسی گزرے گی کہ ایک آیت بھی نہ مصحف میں رہے گی نہ کسی کے دل میں باقی رہے گی، بلکہ اٹھا لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "مَا جَالَسَ الْقُرْآنَ أَحَدٌ فَقَامَ عَنْهُ، إِلَّا بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ، ثُمَّ قَرَأَ: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلا خَسَارًا سورة الإسراء آية 82.
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: قرآن کے لئے جو بھی بیٹھا، پھر کھڑا ہوا تو وہ زیادتی یا نقصان لے کر اٹھے گا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾» [الاسراء: 82/17] یعنی ”یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے، ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 3377
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِفْدَةُ الْغَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "إِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ الْعَذَابَ بِأَهْلِ الْأَرْضِ، فَإِذَا سَمِعَ تَعْلِيمَ الصِّبْيَانِ الْحِكْمَةَ، صَرَفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ" . قَالَ مَرْوَانُ: يَعْنِي بِالْحِكْمَةِ: الْقُرْآنَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ثابت بن عجلان انصاری نے کہا: یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ زمین کو عذاب کا ارادہ کرتا ہے لیکن جب بچوں کو حکمت کی تعلیم لیتے سنتا ہے تو ارادہ بدل دیتا ہے۔ مروان نے کہا: حکمت سے مراد قرآن کی تعلیم ہے۔
حدیث نمبر: 3378
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا عَمْرٍو، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: "سَيَبْلَى الْقُرْآنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ كَمَا يَبْلَى الثَّوْبُ، فَيَتَهَافَتُ، يَقْرَءُونَهُ لَا يَجِدُونَ لَهُ شَهْوَةً وَلَا لَذَّةً، يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ، أَعْمَالُهُمْ طَمَعٌ لَا يُخَالِطُهُ خَوْفٌ، إِنْ قَصَّرُوا، قَالُوا: سَنَبْلُغُ، وَإِنْ أَسَاءُوا، قَالُوا: سَيُغْفَرُ لَنَا، إِنَّا لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کچھ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم ایسے ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، لوگ اس کو پڑھیں گے لیکن اس میں رغبت و لذت نہ پائیں گے، ایسے لوگ پگھلنے والے دلوں پر میڈھوں کی کھال پہنیں گے، ان کے اعمال میں لالچ ہو گا، خوف الٰہی اس میں نہ ہو گا، اگر ان سے کوتاہی ہو گی تو کہیں گے ہم عنقریب (منزل مقصود کو) پہنچ جائیں گے، اور اگر گناہ کریں گے تو کہیں گے ہماری مغفرت کر دی جائے گی کیوں کہ ہم اللہ کے ساتھ کوئی شرک نہیں کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3379
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے تم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) مجھے بھلا دیا گیا، اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسان کے دلوں میں دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بڑھ کر ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3372 سے 3379)
«نَسِيْتُ» یعنی میں بھول گیا۔
یہ کہنے سے اس لئے منع کیا گیا کہ اس عبارت سے ایسا لگتا ہے کہ بھولنا اس کا اختیاری فعل ہے، حالانکہ یہ تو الله تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، چاہے جس کے دل میں قرآن بسا دے اور جس کے دل سے چاہے اس کو مٹا دے۔
«﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ [الجمعة: 4]»
«نَسِيْتُ» یعنی میں بھول گیا۔
یہ کہنے سے اس لئے منع کیا گیا کہ اس عبارت سے ایسا لگتا ہے کہ بھولنا اس کا اختیاری فعل ہے، حالانکہ یہ تو الله تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، چاہے جس کے دل میں قرآن بسا دے اور جس کے دل سے چاہے اس کو مٹا دے۔
«﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ [الجمعة: 4]»
حدیث نمبر: 3380
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُلَيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَتَعَاهَدُوهُ، وَتَغَنَّوْا بِهِ وَاقْتَنُوهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِن الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب کو پڑھو اور اس کی حفاظت کرو (یعنی بار بار دہراؤ) اس سے گنگناؤ اور اس کو لازم پکڑو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (یا یہ کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے) کیوں کہ وہ دور ہو جانے میں اونٹ کے بھاگ جانے سے بڑھ کر ہے۔“
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَتَعَاهَدُوهُ، وَاقْتَنُوهُ وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب پڑھو، اس کو یاد کرو، اس سے چمٹے رہو، اور اس سے گنگناؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ بھول جانے میں اونٹ کے بھاگ جانے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے۔“ (یعنی جس طرح اونٹ بھاگ جاتا ہے قرآن پاک بھی دلوں سے محو ہو جاتا ہے)۔
حدیث نمبر: 3382
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: "أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ كَانَ يَضَعُ الْمُصْحَفَ عَلَى وَجْهِهِ، وَيَقُولُ: كِتَابُ رَبِّي، كِتَابُ رَبِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ قرآن پاک کو اپنے چہرے سے لگاتے اور کہتے تھے: میرے رب کی کتاب ہے، یہ میرے پروردگار کی کتاب ہے۔
حدیث نمبر: 3383
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ: "كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ، قَرَأَ الْمُصْحَفَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ"، قَالَ: وَكَانَ ثَابِتٌ يَفْعَلُهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ثابت نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک قرآن پڑھتے رہتے۔ راوی نے کہا: اور ثابت بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3379 سے 3383)
ان تمام آثار و احادیث میں قرآن پاک پڑھنے، اسے حفظ کرنے، یاد رکھنے، اور اس سے برابر لگاؤ رکھنے کی ترغیب ہے، اور اس سے ڈرایا گیا ہے کہ یاد کر کے ایک مسلمان اس کو پسِ پشت نہ ڈالے، اس کو دہراتا رہے اور عمل بھی کرے، قرآن پاک کا یہ معجزہ بھی ان میں مذکور ہے کہ بار بار پڑھنے سے اور تازگی آتی ہے، اکتاہٹ نہیں ہوتی، کتنے ایسے مسلمان ہیں جو پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی قرآن کو نہ کھول کر دیکھتے ہیں نہ پڑھتے ہیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: اے اللہ کی نبی! میں کتنے دن میں قرآن پاک ختم کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ایک مہینہ میں، عرض کیا: میں زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔
فرمایا: پچیس دن میں، پھر بیس دن میں، یہاں تک کہ کہا: پانچ دن میں۔
یہ روایت آگے (3518) نمبر پر آرہی ہے۔
ایک اور روایت میں کم سے کم تین دن میں قرآن پاک ختم کرنے کا حکم ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک مہینے میں ایک قرآن ضرور ختم کرنا چاہئے، اور کم سے کم تین دن میں۔
تین دن سے کم میں قرآن کریم ختم کرنے کی ممانعت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کم میں ختمِ قرآن کرنے والا کچھ نہ سمجھے گا۔
دیکھئے: [سنن ابن ماجه 1347]۔
الله تعالیٰ سب مسلمانوں کو قرآن پاک پڑھنے اور اس کو یاد کرنے نیز سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیقِ ارزانی نصیب فرمائے، آمین۔
ان تمام آثار و احادیث میں قرآن پاک پڑھنے، اسے حفظ کرنے، یاد رکھنے، اور اس سے برابر لگاؤ رکھنے کی ترغیب ہے، اور اس سے ڈرایا گیا ہے کہ یاد کر کے ایک مسلمان اس کو پسِ پشت نہ ڈالے، اس کو دہراتا رہے اور عمل بھی کرے، قرآن پاک کا یہ معجزہ بھی ان میں مذکور ہے کہ بار بار پڑھنے سے اور تازگی آتی ہے، اکتاہٹ نہیں ہوتی، کتنے ایسے مسلمان ہیں جو پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی قرآن کو نہ کھول کر دیکھتے ہیں نہ پڑھتے ہیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: اے اللہ کی نبی! میں کتنے دن میں قرآن پاک ختم کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ایک مہینہ میں، عرض کیا: میں زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔
فرمایا: پچیس دن میں، پھر بیس دن میں، یہاں تک کہ کہا: پانچ دن میں۔
یہ روایت آگے (3518) نمبر پر آرہی ہے۔
ایک اور روایت میں کم سے کم تین دن میں قرآن پاک ختم کرنے کا حکم ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک مہینے میں ایک قرآن ضرور ختم کرنا چاہئے، اور کم سے کم تین دن میں۔
تین دن سے کم میں قرآن کریم ختم کرنے کی ممانعت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کم میں ختمِ قرآن کرنے والا کچھ نہ سمجھے گا۔
دیکھئے: [سنن ابن ماجه 1347]۔
الله تعالیٰ سب مسلمانوں کو قرآن پاک پڑھنے اور اس کو یاد کرنے نیز سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیقِ ارزانی نصیب فرمائے، آمین۔