حدیث نمبر: 3208
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَاحَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے پاس وصیت کی کوئی چیز ہو اسے حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی گزارے اور اس کے پاس اس کی وصیت لکھی نہ ہو۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3206 سے 3208)
یعنی بنا وصیت کے دو رات گذارنا بھی مناسب نہیں ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ہمیشہ وصیت لکھ کر رکھتا ہوں۔
قریب الموت آدمی اپنے مرنے کے بعد کسی چیز کی دیکھ بھال، یا اپنے مال کو نیک کام میں خرچ کرنے کا فیصلہ کرے، اور کسی کو اس کا حکم دے، تو اس کو وصیت کہتے ہیں، اور وصیت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک تو یہ کہ مرنے والے شخص پر قرض ہو یا کسی کی امانت ہو، دوسرے وہ کسی قرابت دار کے لئے یا مسجد مدرسے اور تیموں کے لئے وصیت کرے اس کی دولت یا جائداد میں سے اس نیک کام میں خرچ کیا جائے، تو ایسا کرنا مستحب ہے، لیکن یہ وصیت ایک ثلث یا اس سے کم مال میں ہوگی، نیز وصیت کے احکام و مسائل ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
قرآن پاک میں ہے: ”اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا وصی (گواہ) ہونا مناسب ہے جب کہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو، وہ دو شخص ایسے ہوں جو دین دار ہوں۔
“ [المائده: 106]۔
یعنی بنا وصیت کے دو رات گذارنا بھی مناسب نہیں ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ہمیشہ وصیت لکھ کر رکھتا ہوں۔
قریب الموت آدمی اپنے مرنے کے بعد کسی چیز کی دیکھ بھال، یا اپنے مال کو نیک کام میں خرچ کرنے کا فیصلہ کرے، اور کسی کو اس کا حکم دے، تو اس کو وصیت کہتے ہیں، اور وصیت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک تو یہ کہ مرنے والے شخص پر قرض ہو یا کسی کی امانت ہو، دوسرے وہ کسی قرابت دار کے لئے یا مسجد مدرسے اور تیموں کے لئے وصیت کرے اس کی دولت یا جائداد میں سے اس نیک کام میں خرچ کیا جائے، تو ایسا کرنا مستحب ہے، لیکن یہ وصیت ایک ثلث یا اس سے کم مال میں ہوگی، نیز وصیت کے احکام و مسائل ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
قرآن پاک میں ہے: ”اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا وصی (گواہ) ہونا مناسب ہے جب کہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو، وہ دو شخص ایسے ہوں جو دین دار ہوں۔
“ [المائده: 106]۔
حدیث نمبر: 3209
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: "الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ، وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: مومن پورا پیٹ بھر کے نہیں کھاتا ہے، اور اس کی وصیت ہمیشہ اس کے پہلو میں رہتی ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3208)
احادیث میں ہے: «اَلْمُؤمِنُ يَأْكُلُ فِيْ مِعًي وَاحِدًا وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِيْ سَبْعَةِ أَمْعَاءِ.» غالباً سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اسی سے یہ نتیجہ اخذ کیا۔
واللہ اعلم۔
احادیث میں ہے: «اَلْمُؤمِنُ يَأْكُلُ فِيْ مِعًي وَاحِدًا وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِيْ سَبْعَةِ أَمْعَاءِ.» غالباً سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اسی سے یہ نتیجہ اخذ کیا۔
واللہ اعلم۔