حدیث نمبر: 3197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَزَيْدٍ، قَالُوا: "الْوَالِدُ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہم نے کہا: باپ اپنے بیٹے کا ولاء (اپنی طرف) کھینچ لے گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3196)
ولاء غلام کی میراث کے سلسلے میں حق یہ ہے کہ اس کا نسبی وارث نہ ہو تو غلام کا مالک اس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
اس باب میں ذکر ہے کہ بیٹے کے ولاء کا باپ اور باپ کا دادا وارث ہو سکتا ہے۔
ولاء غلام کی میراث کے سلسلے میں حق یہ ہے کہ اس کا نسبی وارث نہ ہو تو غلام کا مالک اس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
اس باب میں ذکر ہے کہ بیٹے کے ولاء کا باپ اور باپ کا دادا وارث ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 3198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "الْجَدُّ يَجُرُّ الْوَلَاءَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: دادا ولاء کو کھینچ لے گا۔
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: "الْوَالِدُ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے قاضی شریح نے کہا: والد اپنے بیٹے کا ولاء کھینچ لے گا۔
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ: "فِي مَمْلُوكٍ تُوُفِّيَ وَلَهُ أَبٌ حُرٌّ، وَلَهُ بَنُونَ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ، لِمَنْ وَلَاءُ وَلَدِهِ ؟ قَالَ: لِمَوَالِي الْجَدِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایک غلام مر گیا اور اس کا آزاد باپ اور اس کے بیٹے (یعنی مرنے والے کے بیٹے) آزاد عورت سے موجود ہیں تو ولاء کس کے لئے ہو گا ؟ انہوں نے کہا: ایسی صورت میں دادا کے جو مالکان ہیں ولاء ان کا ہو گا۔
حدیث نمبر: 3201
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: "فِي مُكَاتَبٍ مَاتَ وَقَدْ أَدَّى نِصْفَ مُكَاتَبَتِهِ، وَلَهُ وَلَدٌ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَةٍ، قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ جَرَّ وَلَاءَ وَلَدِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ایک غلام مکاتب فوت ہو گیا، جس نے آدھی قسط ادا کر دی تھی اور آزاد بیوی سے اس کا ایک لڑکا موجود تھا، انہوں نے کہا: میرا خیال ہے وہ اپنے بیٹے کا ولاء کھینچ لے گا۔
حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَرْجِعُ عَنْ قَضَاءٍ يَقْضِي بِهِ، فَحَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ: أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ، فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا أَحْرَارًا، ثُمَّ عُتِقَ بَعْدَ ذَلِكَ، رَجَعَ الْوَلَاءُ لِمَوَالِي أَبِيهِمْ"، فَأَخَذَ بِهِ شُرَيْحٌ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: قاضی شریح جو فیصلہ کرتے اس سے رجوع نہ کرتے تھے، ان سے اسود نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب غلام کی شادی آزاد عورت سے ہو جائے، پھر عورت سے اولاد ہوئی جو آزاد تھی، پھر بعد میں باپ بھی آزاد ہو گیا تو ولاء کاحق انہوں نے ان کے باپ کو آزاد کرنے والوں کو دیا، چنانچہ قاضی شریح نے اس کو مان لیا۔
حدیث نمبر: 3203
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَر: "الْمَمْلُوكِ يَكُونُ تَحْتَهُ الْحُرَّةُ، يُعْتَقُ الْوَلَدُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، فَإِذَا عُتِقَ الْأَبُ، جَرَّ الْوَلَاءَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس غلام کے عقد میں آزاد بیوی ہو تو اس کا بیٹا بھی ماں کے ساتھ آزاد ہو گا، اور جب باپ آزاد کر دیا جائے گا تو وہ ولاء کو کھینچ لے گا۔
حدیث نمبر: 3204
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ: "فِي الْحُرَّةِ تَحْتَ الْعَبْدِ، قَالَ: أَمَّا مَا وَلَدَتْ مِنْهُ وَهُوَ عَبْدٌ، فَوَلَاؤُهُمْ لِأَهْلِ نِعْمَتِهَا، وَمَا وَلَدَتْ مِنْهُ وَهُوَ حُرٌّ، فَوَلَاؤُهُمْ لِأَهْلِ نِعْمَتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء سے آزاد عورت جو غلام کے عقد میں ہو، کے بارے میں مروی ہے: اس کی غلامی کی حالت میں جو اولاد ہو گی ان کا ولاء عورت کے محسنین کے لئے ہو گا اور جو اولاد اس غلام کی آزادی کے بعد پیدا ہوئی ان کا ولاء غلام کی اہل نعمت (آزاد کرنے والے محسنین) کے لئے ہو گا۔
حدیث نمبر: 3205
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "إِذَا كَانَتْ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا، فَإِنَّهُ يُعْتَقُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، وَوَلَاؤُهُ لِمَوَالِي أُمِّهِ، فَإِذَا أُعْتِقَ الْأَبُ، جَرَّ الْوَلَاءَ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آزاد عورت اگر غلام کے نکاح میں ہو اور اس غلام سے لڑکا پیدا ہو تو اس کی ماں کی آزادی کے ساتھ وہ لڑکا بھی آزاد کر دیا جائے گا، اور اس کا ولاء اس کی ماں کے مالکان کے لئے ہو گا، پھر جب غلام آزاد ہو گا تو اس کا ولاء اس کے باپ کے موالی کی طرف چلا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "كَانَتْ أُمِّي مَوْلَاةً لِلْحُرَقَةِ، وَكَانَ أَبِي يَعْقُوبُ مُكَاتَبًا لِمَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ، ثُمَّ إِنَّ أَبِي أَدَّى كِتَابَتَهُ، فَدَخَلَ الْحُرَقِيُّ عَلَى عُثْمَانَ، يَسْأَلُ الْحَقَّ يَعْنِي: الْعَطَاءَ، وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ، فَقَالَ: ذَاكَ مَوْلَايَ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ، فَقَضَى بِهِ لِلْحُرَقِيِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
علاء بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے ان کے والد نے کہا: میری ماں حرقہ (قبیلے) کی آزاد کردہ لونڈی تھیں اور میرے والد یعقوب مالک بن اوس بن حدثان نصری کے مکاتب غلام تھے، پھر میرے والد نے مکاتبہ کی مقررہ رقم ادا کر دی تو حرقی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت اوس بن مالک بھی ان کے پاس بیٹھے تھے، حرقی نے میرے حق کا مطالبہ کیا یعنی ولاء (عطاء) کا، اس نے کہا: یہ میرا آزاد کردہ ہے۔ ان دونوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فیصلہ مانگا تو انہوں نے حرقی کے حق میں فیصلہ دیا، یعنی ماں کے موالی کے حق میں فیصلہ دیا، باپ کے موالی کے حق میں نہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3197 سے 3206)
ماں باپ دونوں عبد ہوں تو ان کا لڑکا باپ کے مولی کے تابع ہوگا، اور اگر باپ غلام ماں آزاد ہو تو بچہ بھی آزاد مانا جائے گا، لیکن اگر بچے کی پیدائش کے بعد باپ بھی آزاد ہو گیا تو اس بچے کا ولاء باپ کے موالی کے لئے جائے گا، جر الولاء کی کچھ شروط اور تفصیل ہے جو «التحقيقات الرضية فى المباحث الفرضية للشيخ الفوزان» ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
دیکھے: ص: 120-122۔
ماں باپ دونوں عبد ہوں تو ان کا لڑکا باپ کے مولی کے تابع ہوگا، اور اگر باپ غلام ماں آزاد ہو تو بچہ بھی آزاد مانا جائے گا، لیکن اگر بچے کی پیدائش کے بعد باپ بھی آزاد ہو گیا تو اس بچے کا ولاء باپ کے موالی کے لئے جائے گا، جر الولاء کی کچھ شروط اور تفصیل ہے جو «التحقيقات الرضية فى المباحث الفرضية للشيخ الفوزان» ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
دیکھے: ص: 120-122۔