حدیث نمبر: 3195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "الْفَرَائِضُ مِنْ سِتَّةٍ، لَا نُعِيلُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فرائض چھ سے ہیں، ان (مسائل) میں ہم عول نہیں مانتے ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3194)
«عول» عربی میں کہتے ہیں «عالت الفريضه تعول» یعنی جب سہام اصل حساب سے زیادہ ہو جائیں اور ہر وارث کے حصہ میں کمی واقع ہوجائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام صحابہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عول سے کام لیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس نے شوہر اور دو بہنیں چھوڑیں، مسئلہ چھ سے بنا، جس میں شوہر کا نصف، اور اخوات لاب کا ثلثین (دو تہائی) حصہ بنتا ہے، اب اگر شوہر کو چھ میں سے نصف 3 حصے دیئے جائیں تو بہنیں کمی میں رہیں گی، اور اگر پہلے بہنوں کو دو ثلث (4) دے دیئے جائیں تو شوہر کے لئے (2) بچیں گے اور وہ نقصان میں رہے گا، اس لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اورسب نے دیون (قرضوں) پر قیاس کرتے ہوئے طریقۂ عول کو اپنایا اور یہ مسئلہ سات سے حل کیا، جس میں 3 شوہر کو ملے اور باقی 4 دو ثلث بہنوں کو مل گئے، یہی عول ہے۔
پھر علمائے فرائض نے اسی طرح جب 12 کے حصص زیادہ ہوں تو سترہ تک، اور 6 کے دس تک، اور چوبیس میں 47 تک عول کو مانا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی مخالفت کی ہے جو اجماعِ صحابہ کے مقابلے میں صحیح نہیں۔
واللہ اعلم۔
«عول» عربی میں کہتے ہیں «عالت الفريضه تعول» یعنی جب سہام اصل حساب سے زیادہ ہو جائیں اور ہر وارث کے حصہ میں کمی واقع ہوجائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام صحابہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عول سے کام لیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس نے شوہر اور دو بہنیں چھوڑیں، مسئلہ چھ سے بنا، جس میں شوہر کا نصف، اور اخوات لاب کا ثلثین (دو تہائی) حصہ بنتا ہے، اب اگر شوہر کو چھ میں سے نصف 3 حصے دیئے جائیں تو بہنیں کمی میں رہیں گی، اور اگر پہلے بہنوں کو دو ثلث (4) دے دیئے جائیں تو شوہر کے لئے (2) بچیں گے اور وہ نقصان میں رہے گا، اس لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اورسب نے دیون (قرضوں) پر قیاس کرتے ہوئے طریقۂ عول کو اپنایا اور یہ مسئلہ سات سے حل کیا، جس میں 3 شوہر کو ملے اور باقی 4 دو ثلث بہنوں کو مل گئے، یہی عول ہے۔
پھر علمائے فرائض نے اسی طرح جب 12 کے حصص زیادہ ہوں تو سترہ تک، اور 6 کے دس تک، اور چوبیس میں 47 تک عول کو مانا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی مخالفت کی ہے جو اجماعِ صحابہ کے مقابلے میں صحیح نہیں۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شريح بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: "اخْتُصِمَ إِلَى شُرَيْحٍ فِي بِنْتَيْنِ، وَأَبَوَيْنِ، وَزَوْجٍ، فَقَضَى فِيهَا، فَأَقْبَلَ الزَّوْجُ يَشْكُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ فَأَخَذَهُ، وَبَعَثَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ: هَذَا يَخَالُنِي امْرَأً جَائِرًا، وَأَنَا إِخَالُهُ امْرَأً فَاجِرًا، يُظْهِرُ الشَّكْوَى وَيَكْتُمُ قَضَاءً سَائِرًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا تَقُولُ فِي بِنْتَيْنِ، وَأَبَوَيْنِ، وَزَوْجٍ ؟ فَقَالَ: لِلزَّوْجِ الرُّبُعُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، وَلِلْأَبَوَيْنِ السُّدُسَانِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلِابْنَتَيْنِ، قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ نَقَصْتَنِي ؟ قَالَ: لَيْسَ أَنَا نَقَصْتُكَ، اللَّهُ نَقَصَكَ، لِلِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْأَبَوَيْنِ السُّدُسَانِ، وَلِلزَّوْجِ الرُّبُعُ، فَهِيَ مِنْ سَبْعَةٍ وَنِصْفٍ فَرِيضَةً، فَرِيضَتُكَ عَائِلَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ایوب بن الحارث نے کہا: قاضی شریح کے پاس دو لڑکیوں، ماں اور باپ اور شوہر کا قضیہ آیا تو انہوں نے اس کا فیصلہ کر دیا (یعنی بغیر عول کے، لہٰذا اس کا حصہ کم ہوگیا) لہٰذا مسجد میں شوہر نے اس کا شکوہ کیا تو عبداللہ بن رباح نے قاضی شریح کو بلا بھیجا اور قاضی شریح سے پوچھا: تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ: یہ آدمی مجھے ظالم سمجھتا ہے اور اس کو میں فاجر سمجھتا ہوں کیوں کہ اس نے فتویٰ بتا دیا اور پورا فیصلہ چھپا گیا ہے، اس آدمی نے کہا: پھر آپ دو لڑکی، ماں باپ اور شوہر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: شوہر کے لئے پورے مال کا ريع (چوتھائی) ہے، اور ماں اور باپ دونوں کے لئے دو سدس (چھٹا) حصہ (یعنی چھ اور چھ) ہے، جو بچا وہ لڑکیوں کے لئے ہے، میں نے تمہارے لئے کیا کمی کی؟ عبداللہ بن رباح نے کہا: میں نے تمہاری کوئی تنقیص نہیں کی، الله تعالیٰ نے تمہارا نقص بیان کیا ہے۔ دونوں لڑکیوں کے لئے دو ثلث (چار) ماں باپ کے لئے سدسان (1۔1) اور شوہر کے لئے ربع چوتھا حصہ ہو گا، اور یہ مسئلہ ساڑھے سات سے ہو گا، اور اس مسئلہ میں عول سے کام لینا ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3195)
اس اثر سے عول ثابت ہوا، مسئلہ 7.5 (ساڑھے سات) سے اس طرح ہے: . . . 6- . . . 7.5
زوج . . . 1.5 . . . 1.5
ماں . . . 1 . . . 1
باپ . . . 1 . . . 1
دو لڑکی . . . 4 . . . 4 . . . واللہ اعلم
اس اثر سے عول ثابت ہوا، مسئلہ 7.5 (ساڑھے سات) سے اس طرح ہے: . . . 6- . . . 7.5
زوج . . . 1.5 . . . 1.5
ماں . . . 1 . . . 1
باپ . . . 1 . . . 1
دو لڑکی . . . 4 . . . 4 . . . واللہ اعلم