کتب حدیثسنن دارميابوابباب: ولاء کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: فِي الْعَبْدِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا وَلَهُ مِنْهَا وَلَدٌ ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَتْ حُرَّةً، فَالنَّفَقَةُ عَلَى أُمِّهِ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا، يَعْنِي: الصَّبِيَّ، فَعَلَى مُوَالِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شیبانی (سلیمان بن فیروز) سے مروی ہے: شعبی رحمہ اللہ نے کہا: کوئی غلام کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے لڑکا پیدا ہو جائے تو اگر عورت آزاد ہے تو نفقہ (خرچ) ماں کے ذمہ ہوگا (غلام باپ کے نہیں) اور اگر وہ لڑکا بھی غلام ہو تو اس کا خرچ اس کے آقاؤں پر ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3168)
یہ اس صورت میں ہے جب غلام اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔
«كما فى المصنف.»
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3169
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3178]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے، ابوشہاب کا نام عبدربہ بن نافع ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 153/5]
حدیث نمبر: 3170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ . ح وحَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُمَا قَالَا: "وَلَاؤُهُ لِمَنْ بَدَأَ بِالْعِتْقِ أَوَّلَ مَرَّةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام عامر شعبی اور ابراہیم رحمہما اللہ نے کہا: اس کا حق میراث اس کے لئے ہوگا جس نے پہلی بار آزادی شروع کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3169)
اس اثر کو ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق نے «باب العبد بين الرجلين» میں ذکر کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا غلام جو دو مالکان کے درمیان ہو اور ایک نے اسے آزاد کر دیا تو جس نے پہلے آزاد کیا اس کی میراث کا حق دار وہی ہوگا۔
آگے مزید تفصیل آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3170
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عامر الشعبي
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عامر الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3179]» ¤ اس اثر کی سند عامر شعبی رحمہ اللہ سے صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1901] ، [عبدالرزاق 16723] ۔ اور دوسری سند ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1903] ، [عبدالرزاق 16727]