حدیث نمبر: 3159
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، وُرِّثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب (نومولود) بچہ (پیدائش کے وقت) اونچی آواز نکال دے (یعنی رو دے) تو وارث ہو گا اور اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3160
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، وَرِثَ وَوُرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: جب بچہ رو دے تو وارث بھی ہو گا، اور وارث بنایا جائے گا، اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3161
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يَسْتَهِلُّ، وَاسْتِهْلَالُهُ بِعَصْرِ الشَّيْطَانُ بَطْنَهُ، فَيَصِيحُ، إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہر نومولود بچہ چیختا ہے، اور اس کا چیخنا شیطان کے اس کا پیٹ دبانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور وہ چیخنے لگتا ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3152 سے 3161)
اس حدیث سے ولادت کے وقت ہر بچے کے رونے کا پتہ چلا، اور یہ کہ بچہ شیطان کے کچوکے لگانے کی وجہ سے روتا ہے، اور پیدائش کے وقت سے ہی شیطان ابنِ آدم کو زک پہنچانا شروع کر دیتا ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، کیوں کہ مریم علیہ السلام ان کی والدہ نے دعا کی تھی: «﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [آل عمران: 36]» لہٰذا شیطان کی رسائی ان تک نہ ہو سکی اور ماں بیٹے اس کے شر سے محفوظ رہے۔
[كما فى البخاري 3431]۔
یہ حقیقت قرآن پاک اور احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے اس لئے آمنا و صدقنا شک کی اس میں گنجائش نہیں۔
یہاں اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیدائش کے وقت ہر بچہ روتا ہے اور یہ اس کے زندہ ہونے کی علامت ہے، آواز نہ نکالے تو بیمار یا مردہ ہوتا ہے، اور ہر وہ بچہ جو آواز نکالے وارث ہو گا، اور اگر رونے کے بعد مر جائے تو اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
اس حدیث سے ولادت کے وقت ہر بچے کے رونے کا پتہ چلا، اور یہ کہ بچہ شیطان کے کچوکے لگانے کی وجہ سے روتا ہے، اور پیدائش کے وقت سے ہی شیطان ابنِ آدم کو زک پہنچانا شروع کر دیتا ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، کیوں کہ مریم علیہ السلام ان کی والدہ نے دعا کی تھی: «﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [آل عمران: 36]» لہٰذا شیطان کی رسائی ان تک نہ ہو سکی اور ماں بیٹے اس کے شر سے محفوظ رہے۔
[كما فى البخاري 3431]۔
یہ حقیقت قرآن پاک اور احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے اس لئے آمنا و صدقنا شک کی اس میں گنجائش نہیں۔
یہاں اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیدائش کے وقت ہر بچہ روتا ہے اور یہ اس کے زندہ ہونے کی علامت ہے، آواز نہ نکالے تو بیمار یا مردہ ہوتا ہے، اور ہر وہ بچہ جو آواز نکالے وارث ہو گا، اور اگر رونے کے بعد مر جائے تو اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَرِثُ الْمَوْلُودُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا، وَإِنْ وَقَعَ حَيًّا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مکحول نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نومولود جب تک آواز نہ نکالے وارث نہیں ہو گا چاہے زندہ ہی پیدا ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب بچہ آواز لگائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور وارث مانا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَرَى "الْعُطَاسَ اسْتِهْلَالًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں چھینک آنے کو استہلال (بچے کی پہلی آواز) سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْمَوْلُودُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ، وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ حَتَّى يَسْتَهِلَّ، فَإِذَا اسْتَهَلَّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِّثَ، وَكُمِّلَتْ الدِّيَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: نومولود جب تک چیخے نہیں وارث نہ ہو گا، اور اس پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی جائے گی جب تک آواز نہ نکالے، پس جب آواز نکالے تو اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی اور وارث بنایا جائے گا، اور اس کی دیت بھی کامل ہو گی۔ یعنی اگر کوئی اسے مار ڈالے تو پوری دیت ہو گی جتنی ایک آدمی کی دیت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ: وَسَأَلْنَاهُ عَنْ السِّقْطِ، فَقَالَ: "لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَوْلُودٍ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس نے کہا: ہم نے ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے نامکمل گر جانے والے حمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس پر نماز جناز نہیں پڑھی جائے گی، اور نومولود پر بھی نماز نہیں پڑھی جائے گی جب تک کہ وہ روئے نہیں۔