حدیث نمبر: 3136
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: "وَلَدُ الزِّنَا بِمَنْزِلَةِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ولد الزنا ابن الملاعنہ کے درجہ میں ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3135)
ولد الزنا وہ بچہ ہے جو زنا کاری کے نتیجے میں پیدا ہوا، اور ابن الملاعنہ وہ ہے جس کا شوہر نے انکار کیا ہو اور عورت کو زنا کی تہمت کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان لعان سے جدائی ہو گئی ہو، ایسا بچہ ابن الملاعنہ کہلائے گا اور اس کی وارث ماں ہوگی باپ نہیں، اسی طرح ولد الزنا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی وارث بھی ماں ہوگی، وہ مرد جس نے زنا کیا وہ بھی وارث نہ ہوگا۔
ولد الزنا وہ بچہ ہے جو زنا کاری کے نتیجے میں پیدا ہوا، اور ابن الملاعنہ وہ ہے جس کا شوہر نے انکار کیا ہو اور عورت کو زنا کی تہمت کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان لعان سے جدائی ہو گئی ہو، ایسا بچہ ابن الملاعنہ کہلائے گا اور اس کی وارث ماں ہوگی باپ نہیں، اسی طرح ولد الزنا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی وارث بھی ماں ہوگی، وہ مرد جس نے زنا کیا وہ بھی وارث نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 3137
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ: أَنَّ "وَلَدَ الزِّنَا لَا يَرِثُهُ الَّذِي يَدَّعِيهِ، وَلَا يَرِثُهُ الْمَوْلُودُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم نے کہا: ولد الزنا کا وہ شخص جو اپنا بچہ ہونے کا دعویٰ کرے وہ اس بچے کا وارث نہ ہوگا، نہ ولد الزنا اس کا وارث ہو گا۔
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ كَانَ "لَا يُوَرِّثُ وَلَدَ الزِّنَا، وَإِنْ ادَّعَاهُ الرَّجُلُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ ولد الزنا کو وارث نہیں مانتے تھے چاہے آدمی اس کا دعویٰ کرتا رہے۔
حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَى إِلَى غُلَامٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ ابْنٌ لَهُ، وَأَنَّهُ زَنَى بِأُمِّهِ، وَلَمْ يَدَّعِ ذَلِكَ الْغُلَامَ أَحَدٌ، فَهُوَ يَرِثُهُ". قَالَ بُكَيْرٌ: وَسَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَقَالَ عُرْوَةُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیمان بن یسار نے کہا: جو آدمی بھی کسی لڑکے کے پاس آئے اور یہ گمان رکھے کہ وہ اسی کا لڑکا ہے، اور اس نے لڑکے کی ماں سے زنا کیا تھا، اور اس لڑکے کے باپ ہونے کا دوسرا کوئی دعویٰ نہ کرے تو وہ اس لڑکے کا وارث ہو گا۔ بکیر نے کہا: میں نے عروة سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی سلیمان بن یسار کی طرح جواب دیا، اور عروہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اولاد فراش (یعنی بستر والے) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں (یعنی رجم)۔“
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "ابْنُ الْمُلَاعَنَةِ مِثْلُ وَلَدِ الزِّنَا، تَرِثُهُ أُمُّهُ، وَوَرَثَتُهُ، وَرَثَةُ أُمِّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: ابن الملاعنہ، ولد الزنا کی طرح ہے، اس کی ماں ہی اس کی وارث ہو گی اور اس کی ماں کے وارثین اس کے وارث ہیں۔
حدیث نمبر: 3141
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ وَلَدُ الزِّنَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا وارث نہیں بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَوْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: فِي أَوْلَادِ الزِّنَا، قَالَ: "يَتَوَارَثُونَ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ، وَإِنْ وَلَدَتْ تَوْءَمًا فَمَاتَ، وَرِثَ السُّدُسَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے اولاد الزنا کے بارے میں کہا کہ وہ ماؤں کی جانب سے وارث ہوں گے، اور اگر ایک بچہ جنا اور وہ مر گیا تو (دوسرا) سدس کا وارث ہو گا۔
حدیث نمبر: 3143
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ وَلَدُ الزِّنَا، إنما يرث من لم يقم على أبيه الحد، أو تملك أمه بنكاح 3، أو شراء".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا (حرامی) وارث نہیں ہو گا، وارث وہ ہو گا جس کے باپ پر حد جاری نہ کی گئی ہو، یا جو اس بچے کی ماں کا نکاح یا خریدنے کی وجہ سے مالک ہو۔
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، قَالَ: "لَا بَأْسَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ حُبْلَى، فَإِنَّ الْوَلَدَ لَا يَلْحَقُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اسماعیل سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے کہا: (کوئی) آدمی عورت سے زنا کرے پھر اسی سے شادی کر لے، حسن رحمہ اللہ نے کہا: نکاح کر لینے میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو (یعنی حمل کی حالت میں نکاح نہ کیا ہو)، لیکن لڑکا اس کی طرف منسوب نہ ہو گا۔ (یعنی ولد الزنا نہ باپ کی طرف منسوب ہو گا اور نہ وارث ہو گا)۔
حدیث نمبر: 3145
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ "كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ بَعْدَهُ، فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ يَطَؤُهَا، فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا، أَوْ حُرَّةٍ عَاهَرَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، فَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا: حُرَّةً، أَوْ أَمَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو لڑکا اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اس سے ملایا جائے۔ “ (یعنی اس مرنے والے کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں کہ یہ ہمارے موروث کا بچہ ہے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ ”وہ لڑکا اس لونڈی سے ہے جس کا مالک جماع کے وقت اس کا باپ تھا تو اس کا نسب ملانے والے سے مل جائے گا۔ لیکن جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گا اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا، اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا، مگر وہ باپ جس سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے اپنی زندگی میں اس کے نسب کا انکار کیا ہو تو وہ وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا (یعنی اس کا بچہ نہ مانا جائے گا) اور اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا ایسی آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا (گرچہ اس مرد کے وارث اس بچے کو اس سے ملا دیں) اور نہ وہ بچہ اس (زانی) مرد کا وارث ہو گا چاہے اس کے باپ نے اپنی زندگی میں اس کا دعویٰ کیا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، کیوں کہ وہ ولد الزنا ہے اور وہ اپنی ماں کے لوگوں سے مل جائے گا، چاہے وہ آزاد کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو یا لونڈی کے پیٹ سے (آخر ولد الزنا ہے، اور وارث نہ ہو گا، نہ نسب میں شامل ہو گا)۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3136 سے 3145)
جو بچہ زنا سے پیدا ہو وہ درحقیقت اس مرد سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا جس نے زنا کیا گو اس کا نطفہ ہی سہی۔
اس حدیث کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ زید مر گیا، اس کی ایک لونڈی تھی اس سے ایک بچہ تھا، اب زید کے مرنے کے بعد اس کے کل یا بعض وارثوں نے قبول کیا کہ یہ بچہ زید ہی کا ہے تو وہ بچہ زید کا بچہ قرار پائے گا اور نسب ثابت ہوگا اور بچہ وارث ہوگا، یا زید نے اپنی حیات میں اقرار کیا ہو کہ یہ بچہ میرا ہے تب بھی وہ نسب میں شامل ہو کر وارث ہوگا، لیکن اگر زید نے انکار کر دیا تو نہ وہ وارث ہوگا اور نہ ہی نسب میں شامل ہوگا چاہے کچھ وارثین اس کا اقرار کریں۔
واللہ اعلم۔
دیکھئے: شرح ابن ماجہ، حدیث مذکور للعلامہ وحیدالزماں خاں رحمہ اللہ تعالیٰ۔
جو بچہ زنا سے پیدا ہو وہ درحقیقت اس مرد سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا جس نے زنا کیا گو اس کا نطفہ ہی سہی۔
اس حدیث کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ زید مر گیا، اس کی ایک لونڈی تھی اس سے ایک بچہ تھا، اب زید کے مرنے کے بعد اس کے کل یا بعض وارثوں نے قبول کیا کہ یہ بچہ زید ہی کا ہے تو وہ بچہ زید کا بچہ قرار پائے گا اور نسب ثابت ہوگا اور بچہ وارث ہوگا، یا زید نے اپنی حیات میں اقرار کیا ہو کہ یہ بچہ میرا ہے تب بھی وہ نسب میں شامل ہو کر وارث ہوگا، لیکن اگر زید نے انکار کر دیا تو نہ وہ وارث ہوگا اور نہ ہی نسب میں شامل ہوگا چاہے کچھ وارثین اس کا اقرار کریں۔
واللہ اعلم۔
دیکھئے: شرح ابن ماجہ، حدیث مذکور للعلامہ وحیدالزماں خاں رحمہ اللہ تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 3146
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ مَمْلُوكٍ لِي وَلَدُ زِنًا، قَالَ: "لَا تَبِعْهُ، وَلَا تَأْكُلْ ثَمَنَهُ، وَاسْتَخْدِمْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمیر بن زید نے کہا: میں نے شعبی رحمہ اللہ سے اپنے غلام کے بارے میں پوچھا جو زنا سے پیدا ہوا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ: نہ اس کو بیچو، نہ اس کی قیمت کھانا، بس اس سے خدمت لے سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: سُئِلَ عَنْ وَلَدِ زِنَا يَمُوتُ، قَالَ: "إِنْ كَانَ ابْنَ عَرَبِيَّةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَجُعِلَ بَقِيَّةُ مَالِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ مَوْلَاةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَوَرِثَ مَوَالِيهَا الَّذِينَ أَعْتَقُوهَا مَا بَقِيَ . قَالَ مَرْوَانُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ ذَلِكَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ سے ولد الزنا کے بارے میں پوچھا گیا جو وفات پا جائے، کہا: اگر عربی عورت سے تھا تو اس کی ماں ثلث (تہائی) کی وارث ہو گی اور باقی مال بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا، اور اگر وہ مرنے والا لونڈی کا لڑکا تھا تو بھی اس کی ماں ثلث کی وارث ہو گی اور جو باقی بچا اس کے لونڈی کو آزاد کرنے والے وارث ہوں گے۔ مروان نے کہا: میں نے سنا امام مالک رحمہ اللہ یہ ہی فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَضَى بِمِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ كُلِّهِ، لِمَا لَقِيَتْ فِيهِ مِنْ الْعَنَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الملاعنہ (جس بچے کا باپ منکر ہو) کی کل میراث (مال) کا فیصلہ ماں کے لئے کیا، کیوں کہ اس کی ہی وجہ سے وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔
حدیث نمبر: 3149
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ قَالَ فِي وَلَدِ الزِّنَا لِأَوْلِيَاءِ أُمِّهِ: "خُذُوا ابْنَكُمْ تَرِثُونَهُ وَتَعْقِلُونَهُ، وَلَا يَرِثُكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
زید بن وہب سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولد الزنا کے بارے میں اس کی ماں کے اولیاء سے کہا کہ اس کو لے جاؤ، تم اس کے وارث ہو گے، اور اس کی دیت کے ذمہ دار بھی ہوگے، اور یہ تمہارا وارث نہ ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3145 سے 3149)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ حرام زاده (زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ) اپنے باپ زانی کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ اس کا باپ اس کا وارث ہوگا، البتہ وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» (متفق علیہ)، یعنی اولاد صاحبِ بستر (شوہر یا مالک) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں، یعنی رجم کیا جائے گا۔
یہ حدیث «كتاب النكاح، باب (41)، الولد للفراش» میں گذر چکی ہے۔
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ حرام زاده (زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ) اپنے باپ زانی کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ اس کا باپ اس کا وارث ہوگا، البتہ وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» (متفق علیہ)، یعنی اولاد صاحبِ بستر (شوہر یا مالک) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں، یعنی رجم کیا جائے گا۔
یہ حدیث «كتاب النكاح، باب (41)، الولد للفراش» میں گذر چکی ہے۔