حدیث نمبر: 3128
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى شُرَيْحٍ: أَنْ "لَا يُوَرِّثَ الْحَمِيلَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ فِي خِرَقِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح کو لکھا کہ بلا دلیل (بینہ) کے حمیل کو وارث نہ بنائیں، چاہے عورت اسے چیتھڑے میں لپٹا ہوا ہی کیوں نہ لائے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3122 سے 3128)
حمیل اس بچے کو کہتے ہیں جو چھوٹا سا اپنے ملک سے اٹھا کر اسلامی ملک میں لایا جائے۔
بعض نے کہا حمیل اسے کہتے ہیں کہ کوئی آدمی دعویٰ کرے کہ وہ میرا بیٹا یا بھائی ہے تاکہ اس غلام کے مالک اور آقا کے بجائے خود اس کی میراث کا وارث ہو جائے۔
بہرحال یہ دعویٰ بلا بینہ قبول نہ کیا جائے گا، جیسا کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا۔
حمیل اس بچے کو کہتے ہیں جو چھوٹا سا اپنے ملک سے اٹھا کر اسلامی ملک میں لایا جائے۔
بعض نے کہا حمیل اسے کہتے ہیں کہ کوئی آدمی دعویٰ کرے کہ وہ میرا بیٹا یا بھائی ہے تاکہ اس غلام کے مالک اور آقا کے بجائے خود اس کی میراث کا وارث ہو جائے۔
بہرحال یہ دعویٰ بلا بینہ قبول نہ کیا جائے گا، جیسا کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا۔
حدیث نمبر: 3129
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "وَرِّثْ الْحَمِيلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور سے روایت ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: حمیل (اٹھا کر لایا گیا بچہ) وارث ہو گا۔
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ، وَالْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ، وَابْنِ أَبِي عَوْفٍ، وراشد، وعطية، قَالُوا: "لَا يُوَرَّثُ الْحُمَلَاءُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر بن عبداللہ بن ابی مریم سے مروی ہے: ضمرة، فضیل بن فضالہ، ابن ابی عوف، راشد اور عطیہ سب نے کہا: حمیل وارث نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهُ قَوْلُ مَنْ يَقُولُ فِي الْحَمِيلِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: "قَدْ تَوَارَثَ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ بِنَسَبِهِمْ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عون نے بیان کیا: محمد کے پاس حمیل کے وارث نہ ہونے کے قائلین کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا: مہاجرین و انصار دور جاہلیت کے نسب کے مطابق ایک دوسرے کے وارث ہوئے۔
حدیث نمبر: 3132
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، قَالَا: "لَا يُوَرَّثُ الْحَمِيلُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام سے مروی ہے کہ حسن و ابن سیرین رحمہم اللہ نے کہا: حمیل بلا بینہ کے وارث نہ مانا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَمْ يَكُنْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يُوَرِّثُونَ الْحَمِيلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم حمیل کو وارث نہیں مانتے تھے۔
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: "أَقَرَّتْ امْرَأَةٌ مِنْ مُحَارِبٍ جَلِيبَةٌ بِنَسَبٍ لَهَا جَلِيبٍ، فَوَرَّثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ مِنْ أُخْتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اشعث بن ابی الشعثاء نے کہا: بنی محارب کی ایک عورت نے اپنے بھائی جلیب کی نسبت کا اقرار کیا تو عبداللہ بن عقبہ نے اس کی بہن کا اس کو (بھائی کو) وارث قرار دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3128 سے 3134)
مصنف عبدالرزاق میں ہے: ایک لونڈی بہت سا مال چھوڑ کر انتقال کر گئی، ایک آدمی نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کو بھائی کہتی تھی، یعنی یہ دعویٰ تھا کہ وہ اس کا بھائی ہے، چنانچہ قاضی شریح نے اس عورت کا کل مال اسے دے دیا۔
مصنف عبدالرزاق میں ہے: ایک لونڈی بہت سا مال چھوڑ کر انتقال کر گئی، ایک آدمی نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کو بھائی کہتی تھی، یعنی یہ دعویٰ تھا کہ وہ اس کا بھائی ہے، چنانچہ قاضی شریح نے اس عورت کا کل مال اسے دے دیا۔
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا: أَنَا مَوْلَى فُلَانٍ، قَالَ: "يُرَدُّ مِيرَاثَهُ لِمَنْ سَمَّى أَنَّهُ مَوْلَاهُ عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا، إِلَّا أَنْ يَأْتُوا عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ بِغَيْرِ ذَلِكَ يَرُدُّونَ بِهِ قَوْلَهُ، فَيُرَدُّ مِيرَاثُهُ إِلَى مَا قَامَتْ بِهِ الْبَيِّنَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن شہاب سے مروی ہے، کوئی آدمی دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے کہے کہ میں فلاں شخص کا آزاد کردہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اس کا مال ان مالکان کو لوٹا دیا جائے گا جن کی اس نے دنیا سے رخصتی کے وقت نشان دہی کی تھی، الا یہ کہ وارثین اس کے علاوہ کوئی قوی دلیل لائیں، لہٰذا دلیل و بینہ کی روشنی میں اس کا ترکہ صاحب حق کو دیا جائے گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3134)
ان تمام آثار کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیل اور موالی میں سے جس کا بھی نسب دلیل سے ثابت ہو گا وہ وراثت پائے گا۔
ان تمام آثار کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیل اور موالی میں سے جس کا بھی نسب دلیل سے ثابت ہو گا وہ وراثت پائے گا۔