کتب حدیثسنن دارميابوابباب: قیدی کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3123
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي امْرَأَةِ الْأَسِيرِ: "أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قیدی کی بیوی کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی وارث ہو گی اور قیدی اس عورت کا وارث ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3123
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن إلى عمر بن عبد العزيز
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى عمر بن عبد العزيز، [مكتبه الشامله نمبر: 3132]» ¤ عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند حسن ہے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کی وجہ سے، «و انفرد به الدارمي» ۔
حدیث نمبر: 3124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي، قَالَ: "أُجيزُ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اسحاق بن راشد سے مروی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اسیر کے بارے میں کہا جو وصیت کر جائے، انہوں نے کہا: اس کی وصیت کو جب تک وہ اپنے دین پر ہے میں جائز سمجھتا ہوں جب تک کہ دین نہ بدلے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3124
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عمر
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3133]» ¤ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 10150] ، [فتح الباري 45/12]
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: "يُوَرَّثُ الْأَسِيرُ إِذَا كَانَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: قیدی جب دشمن کے قبضہ میں ہو تو وہ وارث مانا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3125
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3134]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19202] ، [ابن أبى شيبه 11518] ، [فتح الباري 49/12]
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: "يُوَرَّثُ الْأَسِيرُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان نے کہا جس نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سنا، اس نے بیان کیا کہ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے تھے: اسیر کو وارث مانا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3126
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف فيه جهالة
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 3135]» ¤ اس روایت کی سند میں ابراہیم رحمہ اللہ سے جس نے سنا مجہول ہے، لیکن عبدالرزاق نے صحیح سند سے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11522] ، [عبدالرزاق 19202]
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ كَانَ "لَا يُوَرِّثُ الْأَسِيرَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
داؤد (ابن ابی ہند) نے کہا: سعید بن المسيب رحمہ اللہ اسیر کو وارث نہیں مانتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3127
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3136]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11523، 11524] ۔ اس اثر کو امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: پہلی جماعت کا قول راجح ہے، یعنی قیدی وراثت میں اپنے حصے کا حقدار ہوگا، اور اس کے رشتے دار اس کے وارث ہونگے۔ دیکھئے: [فتح الباري 50/12] ، والله اعلم۔