حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: "إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ أَخَاهُ عَمْدًا، لَمْ يُوَرَّثْ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَا مِنْ دِيَتِهِ، فَإِذَا قَتَلَهُ خَطَأً، وُرِّثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، وَلَمْ يُوَرَّثْ مِنْ دِيَتِهِ . قَالَ: وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ ذَلِكَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم نے کہا: جو آدمی اپنے بھائی کو عمداً قتل کر ڈالے تو وہ نہ اس کی میراث میں سے کچھ لے سکے گا اور نہ اس کی دیت میں سے اس کو کچھ دیا جائے گا، اور اگر قتل خطا سے بھائی کی موت واقع ہوئی ہو تو میراث میں سے اس کو حصہ ملے گا، دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، انہوں نے کہا: عطاء بھی یہ ہی کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا، فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ، فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ: لَا مِيرَاثَ لَكَ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ، "فَجَعَلَ عَلَيْهِ الدِّيَةَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
خلاس سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا: ایک آدمی نے اپنی ماں کو پتھر کھینچ مارا، چنانچہ وہ فوت ہو گئی، اس (مارنے والے) نے اپنے بھائیوں سے میراث میں سے اپنا حصہ طلب کیا، تو انہوں نے کہا: میراث میں تمہارا کوئی حق نہیں، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے مارنے والے پر دیت کو لازم کیا اور میراث سے بے دخل کر دیا۔
حدیث نمبر: 3112
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ الْحَكَمِ: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلَ امْرَأَتَهُ خَطَأً،"أَنَّهُ يُمْنَعُ مِيرَاثَهُ مِنْ الْعَقْلِ وَغَيْرِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم سے مروی ہے کہ کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو قتل خطا سے مار ڈالے تو وہ دیت وغیرہ کی میراث سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3113
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ مِنْ الْمَقْتُولِ شَيْئًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قاتل مقتول کی کسی چیز کا وارث نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 3114
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ: "فِي رَجُلٍ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، وَجَاءَ بِشُهُودٍ فَرُجِمَتْ ؟ قَالَ: يَرِثُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
معمر نے قتادہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تہمت لگائی اور شہود (گواہ) بھی لایا جس کے نتیجے میں اس عورت کو رجم کر دیا گیا، قتادہ نے کہا: وہ (شوہر) اس کا وارث ہو گا۔
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَمَّادٍ: "فِي رَجُلٍ جُلِدَ الْحَدَّ أَرَاهُ مَاتَ، شَكَّ أَبُو النُّعْمَانِ ؟ قَالَ: يَتَوَارَثَانِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعوانہ نے حماد سے بیان کیا کہ ایک آدمی کو کوڑوں کی سزا دی گئی، نعمان نے کہا: شاید جس کے نتیجے میں وہ مر گیا، حماد نے کہا: وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
حدیث نمبر: 3116
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ، وَلَا يَحْجُبُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قاتل نہ میراث پائے گا نہ حاجب ہوگا (یعنی کسی وارث کو محروم بھی نہ کرے گا)۔
حدیث نمبر: 3117
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْقَاتِلُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعمرو عبدی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قاتل کو میراث نہیں دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3118
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "لَا يَرِثُ قَاتِلٌ خَطَأً، وَلَا عَمْدًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خطا اور عمد کسی کا بھی قاتل وارث نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 3119
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
طاؤوس رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قاتل وارث نہ ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3109 سے 3119)
قاتل کے بارے میں صحیح یہی ہے کہ وہ نہ میراث میں کچھ لینے کا حق دار ہوگا نہ دیت میں سے، چاہے قتل عمداً کیا ہو یا خطا، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ عمداً قتل کیا تو میراث سے محروم ہوگا، اور غلطی سے قتل ہوا جیسے ڈنڈا مارا، دھکا دیا اور مقتول کی جان نکل گئی تو مال کا وارث ہوگا دیت کا نہیں۔
بہرحال راجح وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الأوطار 142/4، رقم الحديث 2581] و [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 54-55]۔
قاتل کے بارے میں صحیح یہی ہے کہ وہ نہ میراث میں کچھ لینے کا حق دار ہوگا نہ دیت میں سے، چاہے قتل عمداً کیا ہو یا خطا، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ عمداً قتل کیا تو میراث سے محروم ہوگا، اور غلطی سے قتل ہوا جیسے ڈنڈا مارا، دھکا دیا اور مقتول کی جان نکل گئی تو مال کا وارث ہوگا دیت کا نہیں۔
بہرحال راجح وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الأوطار 142/4، رقم الحديث 2581] و [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 54-55]۔