کتب حدیثسنن دارميابوابباب: مرتد ہو جانے والے کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ "يُوَرِّثُ أَهْلَ الْمُرْتَدِّ إِذَا قُتِلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم بن عبدالرحمٰن نے کہا: اسلام سے پھر جانے والا (مرتد) اگر قتل کر دیا گیا ہو تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے اہل کو اس کا وارث مانتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3107
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم لم يدرك جده عبد الله فروى عنه مرسلا
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم لم يدرك جده عبد الله فروى عنه مرسلا، [مكتبه الشامله نمبر: 3116]» ¤ قاسم کا اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملنا ثابت نہیں، لہٰذا سند میں انقطاع ہے اور یہ مرسل ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11429، 12812] ، [عبدالرزاق 19297] ، [البيهقي 255/6]
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ "جَعَلَ مِيرَاثَ الْمُرْتَدِّ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعمرو شیبانی نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مرتد کی میراث اس کے مسلمان وارثین کے لئے قرار دی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3108
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3117]» ¤ ابوعمرو: سعد بن ایاس ہیں۔ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11430] ، [البيهقي 254/6]
حدیث نمبر: 3109
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ: أَنَّ عَلِيًّا "قَضَى فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ لِأَهْلِهِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتد کی میراث کا اس کے مسلمان وارثین میں تقسیم کا فیصلہ کیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3095 سے 3109)
مرتد خود کسی مسلمان میت کا وارث نہ ہوگا، لیکن اگر وہ مر جائے تو اس کے وارث مسلمان رشتے دار ہوں گے، اور یہ مسئلہ مسلم اور کافر سے مختلف ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3109
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الحجاج وهو ابن أرطاة. ولأنه منقطع أيضا الحكم لم يدرك عليا
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الحجاج وهو ابن أرطاة. ولأنه منقطع أيضا الحكم لم يدرك عليا، [مكتبه الشامله نمبر: 3118]» ¤ حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن اوپر اس کا صحیح شاہد گزر چکا ہے، دوسرے طرق سے بھی یہ فیصلہ مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11431] ، [عبدالزراق 19143، 19301] ، [البيهقي 254/6]