حدیث نمبر: 3096
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ: فِي رَجُلٍ اعْتَرَفَ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ لِرَجُلٍ، وَأَقَامَ آخَرُ بَيِّنَةً بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ الْمَيِّتُ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: "الْمَالُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُفْلِسًا، فَلَا يَجُوزُ إِقْرَارُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اعتراف کیا کہ فلاں آدمی کے اس کے پاس ہزار درہم ہیں، دوسرے آدمی نے بینہ (دلیل) سے ثابت کیا کہ اس کے بھی ہزار درہم ہیں، اور مرنے والے نے صرف ہزار درہم چھوڑے ہیں؟ حسن رحمہ اللہ نے کہا: آدھا آدھا مال دونوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے الا یہ کہ مرنے والا مفلس ہو ایسی صورت میں اس کی بات ماننا جائز نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 3097
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: قُلْتُ لِشَرِيكٍ: كَيْفَ ذَكَرْتَ فِي الْأَخَوَيْنِ يَدَّعِي أَحَدُهُمَا أَخًا ؟ قَالَ: "يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي نَصِيبِهِ"، قُلْتُ: مَنْ ذَكَرَهُ ؟ قَالَ: جَابِرٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونعیم نے کہا: میں نے شریک سے پوچھا: دو بھائیوں کے بارے میں آپ نے کیا ذکر کیا ہے جن میں سے ایک دعویٰ کرتا ہے کہ وہ (میت کا) بھائی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھائی کا حصہ پائے گا، میں نے عرض کیا: یہ کس نے ذکر کیا ہے؟ جواب دیا کہ جابر نے عامر سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔
حدیث نمبر: 3098
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: فِي الْإِخْوَةِ يَدَّعِي بَعْضُهُمْ الْأَخَ، وَيُنْكِرُ الْآخَرُونَ، قَالَ: "يَدْخُلُ مَعَهُمْ بِمَنْزِلَةِ عَبْدٍ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ، فَيَعْتِقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ، قَالَ: وَكَانَ عَامِرٌ، وَالْحَكَمُ، وَأَصْحَابُهُمَا يَقُولُونَ: لَا يَدْخُلُ إِلَّا فِي نَصِيبِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران) نے روایت کیا، ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے: بھائیوں میں سے بعض (کسی کے) بھائی ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسرے اس کا انکار کریں، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: وہ بھائیوں کے ساتھ غلام کی حیثیت سے شامل ہو گا، ان میں سے ایک آزاد کرانے کا حصہ دے گا۔ اور عامر و حکم اور ان کے شاگردوں نے کہا: جس بھائی نے اعتراف کیا اسی کے حصے سے وہ حصہ لے گا۔
حدیث نمبر: 3099
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: إِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ، فَادَّعَى أَحَدُهُمَا أَخًا وَأَنْكَرَهُ الْآخَرُ ؟ قَالَ: كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، يَقُولُ: "هِيَ مِنْ سِتَّةٍ: لِلَّذِي لَمْ يَدَّعِ ثَلَاثَةٌ، وَلِلْمُدَّعِي سَهْمَانِ، وَلِلْمُدَّعَى سَهْمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
وکیع رحمہ اللہ نے کہا: دو بھائیوں میں سے ایک (تیسرے کے) بھائی ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسرا انکار کرے، انہوں نے کہا: ابن ابی لیلیٰ کہتے تھے: مسئلہ چھ سے ہو گا، جس نے انکار کیا تین حصے لے گا، دو حصے دعویٰ کرنے والا لے گا اور ایک حصہ وہ لے گا جس کے بھائی ہونے کا دعویٰ کیا۔
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ: "فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ، فَقَالَ: ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ، فَقَالَ الْأَوْسَطُ: أَنَا أُجِيزُ، وَقَالَ الْأَكْبَرُ: أَنَا لَا أُجِيزُ، قَالَ: هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثَلاثَةً فَلَهُ سَهْمُهُ، وَسَهْمُ الَّذِي أَجَاز" . وَقَالَ حَمَّادٌ: يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، وَقَالَ عَامِرٌ: الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
حماد سے مروی ہے: آدمی کے تین بیٹے ہیں، اس نے کہا: میرا ایک ثلث (تہائی) مال سب سے چھوٹے بیٹے کے لئے ہے، بیچ والے لڑکے نے کہا: میری طرف سے اجازت ہے، اور بڑے بیٹے نے کہا: میں نہیں مانتا؟ حماد نے کہا: مسئلہ نو سے ہو گا، اس میں تین (سب سے چھوٹے لڑکے ہوں گے) اس کا حصہ اور جس نے اجازت دی اس کا حصہ ہے۔ اور حماد نے کہا: جو باقی بچا وه سب پر برابر لوٹا دیا جائے گا، اور شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے رد کر دیا (گویا) اس نے اپنے سے (اپنا حصہ) رد کر دیا۔
حدیث نمبر: 3101
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ: فِي رَجُلٍ أَقَرَّ بِأَخٍ، قَالَ: "بَيِّنَتُهُ أَنَّهُ أَخُوهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قاضی شریح نے کہا: ایک آدمی نے (دوسرے کے) بھائی ہونے کا اقرار کیا، انہوں نے کہا: اس کو دلیل لانی ہو گی کہ وہ اس کا بھائی ہے۔
حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ: فِي رَجُلٍ أَقَرَّ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ مُضَارَبَةً، وَأَلْفٍ دَيْنًا، وَلَمْ يَدَعْ إِلَّا أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: "يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ، فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ كَانَ لِصَاحِبِ الْمُضَارَبَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حارث عکلی نے کہا: ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت ایک ہزار درہم کا مضاربت (تجارت) کے لئے اقرار کیا، اور ایک ہزار قرض کا، اور صرف ایک ہزار درہم چھوڑے؟ انہوں نے کہا: پہلے قرض ادا کیا جائے گا اور اگر اس کے بعد کچھ بچ گیا تو وہ صاحب مضاربت کے لئے (یعنی جس نے تجارت کے لئے درہم دیئے تھے اس کا) ہو گا۔
حدیث نمبر: 3103
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: "فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِئَةِ دِرْهَمٍ، وَثَلَاثَةَ بَنِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَدَّعِي مِائَةَ دِرْهَمٍ عَلَى الْمَيِّتِ، فَأَقَرَّ لَهُ أَحَدُهُمْ، قَالَ: يَدْخُلُ عَلَيْهِ بِالْحِصَّةِ"، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ: مَا أُرَى أَنْ يَكُونَ مِيرَاثًا، حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایک آدمی فوت ہو گیا اور تین سو درہم اور تین لڑکے چھوڑ گیا، اس کے بعد کوئی آدمی آیا اس نے میت پر سو درہم کا دعویٰ کیا اور ان تینوں بھائیوں میں سے ایک نے اس کا اقرار بھی کیا، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: وہ ان سے اپنا حصہ لے گا، پھر کہا: میرا خیال ہے قرض دینے کے بعد میراث تقسیم ہو گی۔
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ: فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ، وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَاقْتَسَمَا الْأَلْفَيْ دِرْهَمٍ، وَغَابَ أَحَدُ الِابْنَيْنِ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَاسْتَحَقَّ عَلَى الْمَيِّتِ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: "يَأْخُذُ جَمِيعَ مَا فِي يَدِ هَذَا الشَّاهِدِ، وَيُقَالُ لَهُ: اتَّبِعْ أَخَاكَ الْغَائِبَ، وَخُذْ نِصْفَ مَا فِي يَدِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اشعث سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جو انتقال کر گیا اور اپنے دو بیٹے اور دو ہزار درہم چھوڑ گیا، دونوں بھائیوں نے دو ہزار درہم تقسیم کر لئے پھر ان میں سے ایک لڑکا غائب ہو گیا اور ایک آدمی نے ہزار درہم کا دعویٰ کیا؟ حسن رحمہ اللہ نے کہا: موجود بھائی کے پاس جو کچھ ہے وہ مدعی لے لے گا اور کہا جائے گا کہ تم اپنے بھائی کو تلاش کر کے جو اس کے پاس ہو اس کا آدھا حصہ اس سے لے لو۔
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَقَرَّ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ، فَهُوَ عَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جب کچھ وارثین (مرنے والے پر) قرض کا اقرار کر لیں تو وہی اپنے حصہ سے قرض ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا شَهِدَ اثْنَانِ مِنْ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ، فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ إِذَا كَانُوا عُدُولًا"، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: عَلَيْهِمَا فِي بَاب فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جب دو وارث جو سچے ہوں اور قرض کی گواہی دیں تو کل مال سے قرض ادا کیا جائے گا، امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: بس وہی دونوں اپنے حصہ سے قرض ادا کریں گے۔