حدیث نمبر: 3065
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَسُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُوَالِي الرَّجُلَ، قَالَا: "هُوَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَكَذَلِكَ نَقُولُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے روایت کیا: کوئی آدمی کسی کی مدد کرتا ہے وہ مسلمانوں کے درمیان ہے، یعنی مسلمان اس کے وارث ہوں گے۔ سفیان نے کہا: ہم بھی یہی کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول الله! اہل کفر میں سے کوئی شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کو مسلمان کیا وہ اس کا زیادہ قریب ہے اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3054 سے 3066)
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
واللہ اعلم۔
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 3067
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ، أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ، قَالَ: "يَعْقِلُ عَنْهُ، وَيَرِثُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور سے مروی ہے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مخلوط لوگوں (اہل السداد) کے بارے میں پوچھا گیا (جہاں مسلم غیر مسلم مخلوط ہوں)، جب ان میں سے کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے؟ کہا: اس کی طرف سے دیت دے گا اور مسلمان کرنے والا اس کا وارث ہو گا۔