کتب حدیثسنن دارميابوابباب: غلام مکاتب کا بیان
حدیث نمبر: 3035
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ مِيرَاثٌ، مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کے لئے میراث نہیں ہے جب تک کہ اس کے اوپر معاہدے کے مطابق رقم چکانا باقی ہو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3034)
مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جس سے اس کے مالک نے مالِ معین ادا کرنے کی شرط پر آزاد کرنے کا معاہدہ کیا ہو، تو جب تک وہ مال پورا ادا نہ کر دے، نہ آزاد ہوگا، نہ میراث پائے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3035
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3045]» ¤ اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے، اور ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، اور ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ اور مغیرہ: ابن مقسم ہیں، یہ اثر کہیں اور نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 3036
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ: "فِي رَجُلٍ لَهُ بَنُونَ قَدْ أَعْتَقَ مِنْ بَعْضِهِمْ النِّصْفَ، وَمِنْ بَعْضٍ الثُّلُثَ، وَمِنْ بَعْضٍ الرُّبُعَ، قَالَ: لَا يَرِثُونَ حَتَّى يُعْتَقُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء سے مروی ہے کہ اس آدمی کے بارے میں جس کے بیٹے غلام ہوں جن میں سے بعض تہائی اور بعض چوتھائی آزاد ہوئے ہوں۔ عطاء نے کہا: جب تک کہ پوری طرح آزاد نہ کر دیئے جائیں (باپ کے) وارث نہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3036
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى عطاء
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 3046]» ¤ اس اثر کی سند عطاء تک صحیح ہے جو عطاء بن مسلم ہیں، اور یعلی: ابن عبید، عبدالملک: ابن ابی سلیمان ہیں۔ اس اثر کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 614] ، [عبدالرزاق 15722] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [البيهقي 342/10]
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا عبد الله بن جعفر الرقي، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: "فِي رَجُلٍ اشْتَرَى ابْنَهُ فِي مَرَضِهِ، قَالَ: إِنْ خَرَجَ مِنْ الثُّلُثِ وَرِثَهُ، وَإِنْ وَقَعَتْ عَلَيْهِ السِّعَايَةُ لَمْ يَرِثْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے مرض (الموت) میں اپنے بیٹے کو خریدا اور وہ ایک تہائی سے نکل چکا ہو، تو وہ (بیٹا باپ کا) وارث ہوگا اور اگر ابھی مال مقرر دینا باقی ہو تو وارث نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3037
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3047]» ¤ 0
حدیث نمبر: 3038
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "حَدُّ الْمُكَاتَبِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ، حَتَّى يُعْتَقَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کی حد مملوک (یعنی پورے غلام) کی حد ہے یہاں تک کہ وہ آزاد کر دیا جائے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3035 سے 3038)
غلام کی حدِ قذف زنا وغیرہ کی حد میں آزاد کی حد سے آدھی ہے، قياسا على الاماء قرآن پاک میں ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25]»
اس باب میں مذکور آثار سے ثابت ہوا کہ مکاتب میراث کے باب میں مملوک کی طرح ہے جب تک کہ وہ کلی طور پر آزاد نہ ہو جائے، آزاد مرنے والے کا وارث نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3038
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3048]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حسن: ابن صالح ہیں، اور اس کے والد صالح: ابن مسلم، اور ابونعیم: فضل بن دکین ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8239] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [المحلی لابن حزم 228/9]