حدیث نمبر: 3015
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: أَنَّ عُمَرَ قَضَى فِي أَهْلِ طَاعُونِ عَمَوَاسَ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا مِنْ قِبَلِ الْأَبِ سَوَاءً، فَبَنُو الْأُمِّ أَحَقُّ، وَإِذَا كَانَ بَعْضُهُمْ أَقْرَبَ مِنْ بَعْضٍ بِأَبٍ، فَهُمْ أَحَقُّ بِالْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ضحاک بن قیس نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طاعون عمواس (یا دور اسلام میں جو پہلا طاعون آیا اس) میں میراث کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وارثین جو باپ کی جانب سے بچے ہوں وہ سب درجے میں برابر ہوں تو ماں کی جانب والے زیادہ حق دار ہوں گے اور وارثین میں سے جو بھی باپ کے زیادہ قریب ہو گا وہ ہی مال کا زیادہ حق دار ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3014)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عمواس نامی مقام پر طاعون کی وبا پھیلی تو اس میں پورے خاندان اور قبیلے کے قبیلے ختم ہو گئے اور مال کے وارثین نہ بچے، وہاں کے امیر نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا کہ ہلاک شدگان کے اموال و ترکے کا کیا کیا جائے؟ تو امیر المؤمنین نے جواب دیا کہ باپ اور ماں کے قریبی رشتے دار موجود ہوں تو ان میں اس مال کو تقسیم کر دیا جائے جنہیں عصبہ کہتے ہیں۔
یعنی عاصب وہ شخص ہے جس کا حصہ قرآن پاک میں مقرر نہیں اور وارث کی غیر موجودگی میں کل مال سمیٹ لے، یا اصحاب الفروض کے سہام نکال دینے کے بعد جو بچ جائے وہ اس کا ہو جائے۔
عصبہ کی دو قسمیں ہیں: عصبہ بالنسب اور عصب بالسبب، عصبہ بالسبب تو یہ ہے کہ جو شخص کسی کو آزاد کرائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو آزاد کرانے والا اس کے کل مال کا حق دار ہوگا، اور عصبہ بالنسب تین طرح کے ہیں: (1) عصبہ بنفسہ: باپ، دادا، پردادا وغیرہ، بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیره، حقیقی بھائی، پدری بھائی وغیرہ، (2) عصب لغیرہ: وہ عورت جو کسی مرد کی معیت سے عصبہ بنے، مثلاً حقیقی بہن جب کہ اس کے ساتھ حقیقی بھائی موجود ہو، وغیرہ وغیرہ، (3) عصبہ مع الغير: وہ عورت جو کسی عورت کی معیت میں عصبہ بنے، جیسے ایک یا زیادہ حقیقی بہنیں، ایک یا زیادہ بیٹوں یا ایک یا زیادہ پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ مع الغیر ہو جاتی ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 112] اور [منهاج المسلم للشيخ الجزائري، ص: 674]۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عمواس نامی مقام پر طاعون کی وبا پھیلی تو اس میں پورے خاندان اور قبیلے کے قبیلے ختم ہو گئے اور مال کے وارثین نہ بچے، وہاں کے امیر نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا کہ ہلاک شدگان کے اموال و ترکے کا کیا کیا جائے؟ تو امیر المؤمنین نے جواب دیا کہ باپ اور ماں کے قریبی رشتے دار موجود ہوں تو ان میں اس مال کو تقسیم کر دیا جائے جنہیں عصبہ کہتے ہیں۔
یعنی عاصب وہ شخص ہے جس کا حصہ قرآن پاک میں مقرر نہیں اور وارث کی غیر موجودگی میں کل مال سمیٹ لے، یا اصحاب الفروض کے سہام نکال دینے کے بعد جو بچ جائے وہ اس کا ہو جائے۔
عصبہ کی دو قسمیں ہیں: عصبہ بالنسب اور عصب بالسبب، عصبہ بالسبب تو یہ ہے کہ جو شخص کسی کو آزاد کرائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو آزاد کرانے والا اس کے کل مال کا حق دار ہوگا، اور عصبہ بالنسب تین طرح کے ہیں: (1) عصبہ بنفسہ: باپ، دادا، پردادا وغیرہ، بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیره، حقیقی بھائی، پدری بھائی وغیرہ، (2) عصب لغیرہ: وہ عورت جو کسی مرد کی معیت سے عصبہ بنے، مثلاً حقیقی بہن جب کہ اس کے ساتھ حقیقی بھائی موجود ہو، وغیرہ وغیرہ، (3) عصبہ مع الغير: وہ عورت جو کسی عورت کی معیت میں عصبہ بنے، جیسے ایک یا زیادہ حقیقی بہنیں، ایک یا زیادہ بیٹوں یا ایک یا زیادہ پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ مع الغیر ہو جاتی ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [التحقيقات المرضية فى المباحث الفرضية، ص: 112] اور [منهاج المسلم للشيخ الجزائري، ص: 674]۔
حدیث نمبر: 3016
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: أُصِيبَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ الْيَمَامَة، فَبَلَغَ مِيرَاثُهُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ عُمَرُ: "احْبِسُوهَا عَلَى أُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن شداد بن الہاد نے کہا: ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام: سالم معرکہ یمامہ میں جاں بحق ہو گئے اور انہوں نے دو سو درہم میراث میں چھوڑے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان (دراہم) کو ان کی ماں کے لئے روکے رکھو یہاں تک کہ وہ فوت ہو جائے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3015)
مرنے والا اپنے پیچھے صرف ماں کو چھوڑے اور میت کے بیٹے، پوتے، بھائی، بہن کوئی نہ ہوں تو ماں کا مقررہ حصہ ثلث ہے۔
مرنے والا اپنے پیچھے صرف ماں کو چھوڑے اور میت کے بیٹے، پوتے، بھائی، بہن کوئی نہ ہوں تو ماں کا مقررہ حصہ ثلث ہے۔
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ، يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مادری بھائی (ماں کے) وارث ہوں گے، پدری بھائی وارث نہ ہوں گے، اور آدمی اپنے حقیقی بھائی کا وارث ہو گا پدری بھائی کے علاوہ (یعنی پدری بھائی، حقیقی بھائی کی موجودگی میں وارث نہ ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: "أَرَأَيْتَ رَجُلًا تَرَكَ ابْنَ ابْنَتِهِ، أَيَرِثُهُ ؟ قَالَ: لا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نعمان بن سالم نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک آدمی اپنا نواسہ چھوڑ کر مر گیا، کیا وہ اس مرنے والے کا وارث ہو گا؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں (کیونکہ نواسہ وارث نہیں تو عصبہ ہو کر بھی وہ ترکہ نہ لے گا)۔
حدیث نمبر: 3019
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ، وَالْأُخْتُ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں اس کی عصبہ ہے جس کا اور کوئی عصبہ نہ ہو، اور بہن اس کی عصبہ ہے جس کا کوئی اور عصبہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 3020
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِي، فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو اور جو بچ جائے وہ (میت کے) قریب ترین مرد (رشتہ دار) کا حصہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 3016 سے 3020)
عصبہ کے حق میں یہ قوی دلیل ہے جو ان کو وراثت میں حق دار قرار دیتی ہے۔
عصبہ کے حق میں یہ قوی دلیل ہے جو ان کو وراثت میں حق دار قرار دیتی ہے۔