حدیث نمبر: 3002
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى: أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ مَا لِلرَّجُلِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ أَيِّهِمَا يُوَرَّثُ، فَقَالَ: "مِنْ أَيِّهِمَا بَالَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن علی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ایسے آدمی کے بارے میں جو نہ مرد ہو نہ عورت (یعنی ہیجڑا ہو) اس کو کس حیثیت سے میراث دی جائے گی (مرد کی یا عورت کی)، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جس عضو سے پیشاب نکلے (یعنی پیشاب جس جگہ سے کرے اس کا اعتبار ہو گا، ذکر سے پیشاب کرے تو مرد ورنہ عورت کی میراث پائے گا)۔
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْخُنْثَى، قَالَ: "يُوَرَّثُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خنثی (ہیجڑے) کے بارے میں کہا: پیشاب کرنے کی جگہ کے اعتبار سے وہ وارث ہو گا۔
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ، قَالَ: سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ مَوْلُودٍ وُلِدَ، وَلَيْسَ بِذَكَرٍ، وَلَا أُنْثَى، لَيْسَ لَهُ مَا لِلذَّكَرِ، وَلَيْسَ لَهُ مَا لِلْأُنْثَى، يُخْرِجُ مِنْ سُرَّتِهِ كَهَيْئَةِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ: "نِصْفُ حَظِّ الذَّكَرِ، وَنِصْفُ حَظِّ الْأُنْثَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوہانی نے کہا: عامر (الشعبی) رحمہ اللہ سے ایسے بچے کے بارے میں پوچھا گیا جو نہ مذکر ہو نہ مؤنث، نہ پورا عضو مرد کا نہ پورا عضو عورت کا ہو، اس کی ٹنڈی سے پیشاب پاخانہ نکلے، اس کا میراث میں حصہ کس حیثیت سے ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا: اس کا آدھا حصہ مرد کی حیثیت سے اور آدھا حصہ عورت کی حیثیت سے ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3001 سے 3004)
یہ مسئلہ خنثی مشکل کا ہے، اور اس بارے میں بہتر یہ ہے کہ بچہ اگر ہو تو بلوغت تک انتظار کر لیا جائے، ہو سکتا ہے کوئی صورتِ حال واضح ہو جائے، اور اگر میراث کی تقسیم فی الفور ضروری ہو تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اسے نصف حصہ مذکّر کا اور نصف حصہ مؤنّث کا دے دیا جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [منهاج المسلم، ص: 697]۔
یہ مسئلہ خنثی مشکل کا ہے، اور اس بارے میں بہتر یہ ہے کہ بچہ اگر ہو تو بلوغت تک انتظار کر لیا جائے، ہو سکتا ہے کوئی صورتِ حال واضح ہو جائے، اور اگر میراث کی تقسیم فی الفور ضروری ہو تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اسے نصف حصہ مذکّر کا اور نصف حصہ مؤنّث کا دے دیا جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [منهاج المسلم، ص: 697]۔