حدیث نمبر: 2983
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لعان کے بیٹے کے بارے میں کہا کہ اس کی میراث ماں کے لئے ہوگی۔
یعنی ولد الزنا کی طرح باپ اس کا وارث نہ ہوگا۔
یعنی ولد الزنا کی طرح باپ اس کا وارث نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 2984
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ لِمَنْ مِيرَاثُهُ ؟ قَالَ: "لِأُمِّهِ وَأَهْلِهَا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم بن طہمان نے کہا: میں نے سنا ایک آدمی نے عطاء بن ابی رباح سے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا کہ ان کی میراث کس کے لئے ہوگی؟ انہوں نے کہا: اس کی ماں اور ماں کی آل اولاد کے لئے ہوگی۔
حدیث نمبر: 2985
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ: "تَرَكَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَأُمَّهُ لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، ثُمَّ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَيَصِيرُ لِلْأَخِ الثُّلُثُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثَانِ" . وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُمِّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن الملاعنہ (یعنی جو لڑکا لعان کے بعد پیدا ہوا اس کے) بارے میں کہا: جس نے اپنا مادری بھائی اور ماں چھوڑی: مادری بھائی کو چھٹا حصہ اور ماں کے لئے تہائی (ثلث) ہے، پھر باقی ان پر تقسیم ہوگا تو بھائی کے لئے ثلث ہو جائے گا اور ماں کے لئے دو ثلث ہو جائیں گے، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بھائی چھٹا حصہ اور جو بچے گا وہ سب ماں کا ہے۔
حدیث نمبر: 2986
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ: تَرَكَ ابْنَ أَخٍ وَجَدًّا، قَالَ: "الْمَالُ لِابْنِ الْأَخِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے ابن الملاعنہ کے بارے میں مروی ہے: جس نے بھتیجا اور دادا (یا نانا) کو چھوڑا، کہا کہ سارا مال بھتیجے کا ہوگا۔ (کیونکہ لعان کے بعد دادا کی نسبت صحیح نہیں، لہٰذا وہ وارث نہ ہوں گے۔ واللہ اعلم)
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَة: "لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَالثُّلُثَانِ لِبَيْتِ الْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں ہے کہ ماں کے لئے ایک تہائی، باقی دو تہائی بیت المال کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ تَعْقِلُ عَنْهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ"، وَقَالَ قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ: لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَبَقِيَّةُ الْمَالِ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں) کہا: اس کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، ماں کے جو عصبہ ہیں وہ اس سے دیت ادا کریں گے (اگر دیرت ہوتو)۔
اور قتاده رحمہ اللہ نے کہا: حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ثلث ماں کے لئے اور باقی مال اس کی ماں کے عصبہ کا ہے۔
اور قتاده رحمہ اللہ نے کہا: حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ثلث ماں کے لئے اور باقی مال اس کی ماں کے عصبہ کا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2981 سے 2988)
کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں کل مال سمیٹنے والے کو عصبہ کہتے ہیں، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں کل مال سمیٹنے والے کو عصبہ کہتے ہیں، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 2989
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ: أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا فِي وَلَدِ المُلَاعَنَةٍ تَرْكُ جَدَّتِهِ وَإِخْوَتِهِ لأُمِّهِ، قَالَ: "لِلْجَدَّةِ الثُّلُثُ، وَلِلْإِخْوَةِ الثُّلُثَانِ"، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: لِلْجَدَّةِ السُّدُسُ، وَلِلْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَلِبَيْتِ الْمَالِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتاده رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ولد الملاعنہ کے بارے میں کہا: جس نے جدہ اور اپنے اخیافی (مادری بھائی) چھوڑے، جدہ (ام الام) کے لئے ثلث اور مادری بھائیوں کے لئے باقی بچے دو ثلث ہیں، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: نانی کو سدس اور مادری بھائیوں کو ثلث، اور جو بچے وہ بیت المال میں جمع ہوگا۔
حدیث نمبر: 2990
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، وَحُمَيدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "تَرِثُهُ أُمُّهُ يَعْنِي: ابْنَ الْمُلَاعَنَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس کی ماں یعنی ابن الملاعنہ کی ماں وارث ہوگی۔
حدیث نمبر: 2991
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ: أَنَّ النَّخَعِيَّ، وَالشَّعْبِيّ، قَالَا: "تَرِثُهُ أُمُّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مثلِ سابق مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2992
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَخٍ لِي مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ أَسْأَلُهُ: لِمَنْ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ: "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: قَضَى بِهِ لِأُمِّهِ هِيَ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِ وَأَبِيهِ . وقَالَ سُفْيَانُ: الْمَالُ كُلُّهُ لِلْأُمِّ هِيَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عبيد بن عمیر نے کہا: میں نے بنی زریق میں اپنے بھائی کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الملاعنہ کے بارے میں کیا فیصلہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ ماں کے حق میں کیا، کیوں کہ لعان کے بعد ماں ہی لڑکے کے لئے ماں اور باپ کی جگہ ہے۔
اور سفیان نے کہا: سارا مال ماں کے لئے ہوگا کیوں کہ ”ماں“ ماں باپ دونوں کے درجہ میں ہوگی۔
اور سفیان نے کہا: سارا مال ماں کے لئے ہوگا کیوں کہ ”ماں“ ماں باپ دونوں کے درجہ میں ہوگی۔
حدیث نمبر: 2993
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ تَرَكَ أُمَّهُ وَعَصَبَةَ أُمِّهِ، قَالَ: "الثُّلُثُ لِأُمِّهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِعَصَبَةِ أُمِّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ سے ابن الملاعنہ کے بارے میں مروی ہے: جس نے اپنے پیچھے اپنی ماں اور ماں کے عصبہ چھوڑے، انہوں نے کہا: ماں کے لئے ثلث ہے اور جو بچے وہ ماں کے عصبہ کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 2994
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ فِي ابْنِ الْمُلاعَنَةِ، قَالا: "عَصَبَتُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن الملاعنہ کے عصبہ اس کی ماں کے عصبہ ہیں (یعنی وارث موجود نہ ہونے کی صورت میں سارا مال ان کا ہوگا)۔
حدیث نمبر: 2995
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْحَلَبِيُّ مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا المُعْتَمِر، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُول: "مِيرَاثُ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّه، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ لَهُ أَخٌ مِنْ أُمِّه ؟ قَالَ: لَهُ السُّدُسُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس نے کہا کہ حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: ولد الملاعنہ کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، یونس نے کہا: میں نے کہا اگر اس کا مادری بھائی بھی موجود ہو تو؟ کہا: اگر اس کا مادری بھائی ہو تو اس کے لئے سدس ہوگا۔
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: "وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّه، تَرِثُ فَرِيضَتَهَا مِنْهُ، وَسَائِرُ ذَلِكَ فِي بَيْتِ الْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا: ولد الملاعنہ: اس کی ماں اس کی وارث ہوگی اور اپنا حصہ اس کے مال سے لے گی، اور یہ سب مال بیت المال میں جائے گا۔
حدیث نمبر: 2997
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "إِذَا تَلَاعَنَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَجْتَمِعَا، وَدُعِيَ الْوَلَدُ لِأُمِّهِ، يُقَالُ: ابْنُ فُلَانَةَ، هِيَ عَصَبَتُهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُهُ، وَمَنْ دَعَاهُ لِزِنْيَةٍ، جُلِدَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر میاں بیوی لعان کریں تو ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی، پھر وہ کبھی بھی میاں بیوی نہ بن سکیں گے، اور لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا، یہ کہا جائے گا کہ فلاں عورت کا لڑکا ہے، وہ (ملاعنہ عورت) اس لڑکے کے لئے عصبہ ہوگی، وہ لڑکا اس کا وارث ہوگا اور وہ لڑکے کی وارث ہوگی۔ اور جس نے اس لڑکے کو ولد الزنا کا طعنہ دیا تو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ (اسّی کوڑے تہمت لگانے کے ہیں)۔
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ: "أَنَّهُ تَرِثُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ، وَهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شیبانی (سلیمان بن ابی سلیمان) نے شعبی رحمہ اللہ سے ولد المتلاعنین کے بارے میں بیان کیا کہ اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث ہوں گے اور اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ هُوَ الَّذِي لَا أَبَ لَهُ "تَرِثُهُ أُمُّهُ وَإِخْوَتُهُ مِنْ أُمِّهِ، ِوَعَصَبَةُُ أُمِّهِ، فَإِنْ قَذَفَهُ قَاذِف، جُلِدَ قَاذِفُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ولد المتلاعنہ کے بارے میں روایت کیا: جس کا باپ (معلوم) نہ ہو اس کی ماں اور اس کے مادری بھائی اور اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث ہوں گے، اگر اس کو کوئی زنا کی تہمت لگائے گا تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے (اسّی کوڑے تہمتِ زنا کے)۔
حدیث نمبر: 3000
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِمَنْ هُوَ ؟ قَالَ: جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِأُمِّهِ فِي سَبَبِهِ لِمَا لَقِيَتْ مِنْ الْبَلَاءِ، وَلِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ، وقَالَ مَكْحُول: فَإِنْ مَاتَتْ الْأُمُّ، وَتَرَكَتْ ابْنَهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ ابْنُهَا الَّذِي جُعِلَ لَهَا، كَانَ مِيرَاثُهُ لِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ كُلُّهُ، لِأَنَّهُ كَانَ لِأُمِّهِمْ وَجَدِّهِمْ، وَكَانَ لِأَبِيهَا السُّدُسُ مِنْ ابْنِ ابْنَتِهِ، وَلَيْسَ يَرِثُ الْجَدُّ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ أَبُ الْأُمِّ، وَإِنَّمَا وَرِثَ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ أُمَّهُمْ، وَوَرِثَ الْجَدُّ ابْنَتَهُ لِأَنَّهُ جُعِلَ لَهَا، فَالْمَالُ الَّذِي لِلْوَلَدِ لِوَرَثَةِ الْأُمِّ وَهُوَ بِحَوْزَةِ الْجَدُّ وَحْدَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نعمان سے مروی ہے مکحول رحمہ اللہ سے ولد الملاعنہ کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا کہ کس کے لئے ہوگی؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث کو ماں کے لئے خاص کیا کیوں کہ اس کی وجہ سے ہی وہ اس (لعان کی) مصیبت میں گرفتار ہوئی، اور اس کی (میراث کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) مادری بھائیوں کے لئے خاص کیا۔
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: اگر ماں فوت ہو جائے اور اپنا بیٹا چھوڑ جائے، پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہو جائے جس کے لئے میراث تھی، تو اس کی میراث مادری بھائیوں کے لئے ہوگی، کیوں کہ یہ میراث ان (مادری بھائیوں کی) ماں اور نانا کے لئے ہے، اور نانا کے لئے اس کی نواسی کی میراث میں سے چھٹا حصہ ہوگا، اور نانا صرف اسی صورت میں وارث ہوگا اس لئے کہ وہ ماں کا باپ ہے، اور مادری بھائی اپنی ماں کے اور نانا اپنی بیٹی کا وارث ہوگا، کیونکہ اس (متلاعن بیٹے) کی میراث ماں کے لئے ہے، پس جو مال اس لڑکے کا ہے وہ ماں کے وارثین کا ہے، اگر کوئی دوسرا وارث نہ ہوتو کل میراث نانا کے قبضہ میں ہوگی۔
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: اگر ماں فوت ہو جائے اور اپنا بیٹا چھوڑ جائے، پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہو جائے جس کے لئے میراث تھی، تو اس کی میراث مادری بھائیوں کے لئے ہوگی، کیوں کہ یہ میراث ان (مادری بھائیوں کی) ماں اور نانا کے لئے ہے، اور نانا کے لئے اس کی نواسی کی میراث میں سے چھٹا حصہ ہوگا، اور نانا صرف اسی صورت میں وارث ہوگا اس لئے کہ وہ ماں کا باپ ہے، اور مادری بھائی اپنی ماں کے اور نانا اپنی بیٹی کا وارث ہوگا، کیونکہ اس (متلاعن بیٹے) کی میراث ماں کے لئے ہے، پس جو مال اس لڑکے کا ہے وہ ماں کے وارثین کا ہے، اگر کوئی دوسرا وارث نہ ہوتو کل میراث نانا کے قبضہ میں ہوگی۔
حدیث نمبر: 3001
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْه فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَجَاءَ عَصَبَةُ أَبِيهِ يَطْلُبُونَ مِيرَاثَه، فَقَالَ: "إِنَّ أَبَاهُ كَانَ تَبَرَّأَ مِنْهُ، فَلَيْسَ لَكُمْ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِأُمِّهِ، وَجَعَلَهَا عَصَبَتَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس متلاعنین کے لڑکے کا جھگڑا لے کر آئے تو اس (ولد الملاعنہ) کے باپ کی طرف کے لوگ (عصبہ) بھی اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے باپ نے اس سے بیزاری اختیار کی (اس لئے) اس کی میراث میں سے تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس کی میراث کا فیصلہ اس (ولد الملاعنہ) کی ماں کے حق میں دیا اور ماں کو اس کا عصبہ قرار دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2988 سے 3001)
لعان يا ملاعنہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے حمل کا انکاری ہو، چار گواہ نہ لانے کی صورت میں لعان کے بعد حاکم میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا، اس کی تفصیل کتاب النکاح میں گذر چکی ہے۔
اس صورت میں لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی میراث ماں اور ماں جائے بھائی اور ماں کے عصبہ کی طرف ہی منتقل ہوگی، باپ کیوں کہ اس کا انکاری تھا اس لئے باپ یا اس کے قریبی اس ولد ملاعن کے وارث نہ ہوں گے۔
ان تمام آثار کا لب لباب یہ ہی ہے جیسا کہ ضعیف حدیث میں ہے: «إنه يرث أمه وترثه» یعنی وہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔
جمہور علماءکا اسی پر عمل ہے۔
والله اعلم۔
لعان يا ملاعنہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے حمل کا انکاری ہو، چار گواہ نہ لانے کی صورت میں لعان کے بعد حاکم میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا، اس کی تفصیل کتاب النکاح میں گذر چکی ہے۔
اس صورت میں لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی میراث ماں اور ماں جائے بھائی اور ماں کے عصبہ کی طرف ہی منتقل ہوگی، باپ کیوں کہ اس کا انکاری تھا اس لئے باپ یا اس کے قریبی اس ولد ملاعن کے وارث نہ ہوں گے۔
ان تمام آثار کا لب لباب یہ ہی ہے جیسا کہ ضعیف حدیث میں ہے: «إنه يرث أمه وترثه» یعنی وہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔
جمہور علماءکا اسی پر عمل ہے۔
والله اعلم۔