کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: سیدنا علی و سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کی باقی بچے ترکے میں رائے کا بیان
حدیث نمبر: 2978
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي ابْنَةٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، قَالَ: "النِّصْفُ وَالسُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ، فَرَدٌّ عَلَى الْبِنْتِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور پوتی کے بارے میں کہا: نصف (بیٹی کے لئے) اور چھٹا حصہ (پوتی کے لئے) ہے، باقی جو بچے وہ بیٹی کو لوٹا دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّه: "أَنَّهُ أُتِيَ فِي إِخْوَةٍ لِأُمٍّ، وَأُمٍّ، فَأَعْطَى الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ الثُّلُثَ، وَالْأُمَّ سَائِرَ الْمَالِ، وَقَالَ: الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
علقمہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پدری بھائیوں اور ماں کا مسئلہ لایا گیا تو انہوں نے پدری بھائیوں کو ثلث دیا، باقی سارا مال ماں کو دیا اور کہا: جس (میت کے وارث) کا عصبہ نہ ہو ماں اس کی عصبہ میں شمار ہوگی۔
حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ، لَا يُعْلَمُ لَهُ وَارِثٌ غَيْرُهَا، قَالَ: "لَهَا الْمَالُ كُلُّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن (بن صالح بن مسلم) نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے امام عامر الشعبی رحمہ اللہ سے پوچھا: ایک آدمی فوت ہوا اور اپنی لڑکی کو چھوڑا، اس کے علاوہ کوئی وارث معلوم نہیں؟ کہا: سارا مال بیٹی کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَرُدُّ عَلَى أَخٍ لِأُمٍّ مَعَ أُمٍّ، وَلا عَلَى جَدَّةٍ، إِذَا كَانَ مَعَهَا غَيْرُهَا مَنْ لَهُ فَرِيضَةٌ، وَلَا عَلَى ابْنَةِ ابْنٍ، مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ، وَلَا عَلَى امْرَأَةٍ وَزَوْج . وَكَانَ عَلِيٌّ "يَرُدُّ عَلَى كُلِّ ذِي سَهْمٍ، إِلَّا الْمَرْأَةَ وَالزَّوْجَ" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ماں کے ساتھ پدری بھائی پر بقیہ ترکہ نہیں لوٹاتے تھے، اور نہ جدہ پر بقیہ مال لوٹاتے تھے جب کہ اس کے ساتھ صاحبِ فریضہ موجود ہو، اور نہ پوتی پر ما بقیٰ لوٹاتے تھے جب کہ حقیقی بیٹی موجود ہو، اور نہ بیوی اور شوہر پر لوٹاتے تھے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر صاحبِ سہم پر باقی بچا لوٹا دیتے تھے سوائے بیوی اور شوہر کے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2977 سے 2981)
یہ مسئلہ بقیہ بچے مال کے بارے میں ہے کہ اصحاب القروض کو مال دینے کے بعد جو مال ترکے میں سے بچے وہ کس کو دیا جائے؟ بعض اصحاب السہام کو لوٹا دیتے، اور بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ جو بچے اس کو بیت المال میں دے دینا چاہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کے قائل تھے۔
کما سیأتی۔
یہ مسئلہ بقیہ بچے مال کے بارے میں ہے کہ اصحاب القروض کو مال دینے کے بعد جو مال ترکے میں سے بچے وہ کس کو دیا جائے؟ بعض اصحاب السہام کو لوٹا دیتے، اور بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ جو بچے اس کو بیت المال میں دے دینا چاہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کے قائل تھے۔
کما سیأتی۔
حدیث نمبر: 2982
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِت: "أَنَّهُ أُتِيَ فِي ابْنَةٍ، أَوْ أُخْت، فَأَعْطَاهَا النِّصْفَ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ فِي بَيْتِ الْمَالِ وقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
خارجہ بن زید نے کہا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹی اور بہن کا قضیہ لایا گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف دے دیا، باقی نصف بیت المال میں جمع کر دیا، اور یہ اثر یزید بن ہارون نے محمد بن سالم سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے خارجہ (بن زید) سے بھی روایت کیا ہے۔