حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ زَيْدًا كَانَ "يُشَرِّكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بھائیوں کے ساتھ دادا کو تہائی کا شریک بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّهُ كَانَ "يُقَاسِمُ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ، ثُمَّ لَا يُنْقِصُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ ثلث تقسیم کرتے تھے، اور اس میں کمی نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: قَالَ عَامِرٌ: "خُذْ مِنْ أَمْرِ الْجَدِّ مَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: يَعْنِي قَوْلَ زَيْدٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اسماعیل سے مروی ہے عامر (الشعبی) نے کہا: دادا کے معاملے میں اس پر عمل کرو جس پر (علماء) لوگوں نے اجماع کیا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا قول اپناؤ۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2960 سے 2963)
ان تمام آثار سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم ہوئی کہ باپ کی غیر موجودگی میں دادا کا حصہ ہے۔
دادا، پوتے، چچا، بھتیجے کی تصریح گرچہ قرآن پاک میں وارد نہیں ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصص «أَلْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ» [صحيح مسلم 4141] کے تحت مقرر فرما دیئے ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المحلى 384/9]، [فتح الباري 20/12]، [منهاج المسلم، ص: 679]۔
ان تمام آثار سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم ہوئی کہ باپ کی غیر موجودگی میں دادا کا حصہ ہے۔
دادا، پوتے، چچا، بھتیجے کی تصریح گرچہ قرآن پاک میں وارد نہیں ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصص «أَلْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ» [صحيح مسلم 4141] کے تحت مقرر فرما دیئے ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المحلى 384/9]، [فتح الباري 20/12]، [منهاج المسلم، ص: 679]۔