حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْعَبْسِيِّ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْجَد ؟ فَقَالَ: "أَيُّ أَبٍ لَكَ أَكْبَر ؟ فَقُلْتُ أَنَا: آدَمُ، قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يَا بَنِي آدَمَ سورة الأعراف آية 26.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن معقل نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دادا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: تمہارے باپ (دادا) میں کون سب سے بڑا ہے؟ (وفي روايۃ: اس سائل سے جواب نہ بن پڑا تو) میں نے کہا: آدم (سب سے بڑے باپ ہیں) انہوں نے جواب دیا: تم نے اللہ تعالیٰ کا قول سنانہیں ”یا بنی آدم“۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2948 سے 2957)
مطلب غالباً ان کا یہ تھا کہ جدِ اعلیٰ آدم علیہ السلام کو باپ ہی گردانا، کیوں کہ جب لوگ بنی آدم ہیں تو آدم علیہ السلام ان کے باپ ہی ہوئے، اور جب جدِ اعلیٰ باپ ہے تو جدِ ادنیٰ چھوٹے دادا بھی باپ ہی کے درجہ میں ہوں گے۔
واللہ اعلم۔
مطلب غالباً ان کا یہ تھا کہ جدِ اعلیٰ آدم علیہ السلام کو باپ ہی گردانا، کیوں کہ جب لوگ بنی آدم ہیں تو آدم علیہ السلام ان کے باپ ہی ہوئے، اور جب جدِ اعلیٰ باپ ہے تو جدِ ادنیٰ چھوٹے دادا بھی باپ ہی کے درجہ میں ہوں گے۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 2958
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "لَوَدِدْتُ أَنِّي وَالَّذِينَ يُخَالِفُونِي فِي الْجَدِّ تَلَاعَنَّا، أَيُّنَا أَسْوَأُ قَوْلًا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میری خواہش ہے کہ (دادا کے بارے میں) میں اور جو میری مخالفت کرتے ہیں ایک دوسرے پر لعنت کریں جس کا قول غلط ہو (یعنی اس پر لعنت ہو جس کا قول غلط ہو)۔
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ "جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دادا کو باپ قرار دیا۔