حدیث نمبر: 2947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اسلام میں سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے دادا کی حیثیت سے میراث لی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2946)
اس کا مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر باقاعدہ دادا کی حیثیت سے میراث سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر باقاعدہ دادا کی حیثیت سے میراث سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لی۔
حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "أَوَّلُ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَر، فَأَخَذَ مَالَهُ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، فَقَالَا: لَيْسَ لَكَ ذَاكَ، إِنَّمَا أَنْتَ كَأَحَدِ الْأَخَوَيْنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اسلام میں پہلے دادا جو وارث ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے اپنا حصہ لے لیا تو سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور کہا کہ ایسے نہیں، آپ بھی دو بھائیوں کی طرح ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2947)
اگر کوئی میت دادا اور بھائی چھوڑ جائے تو سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کے نزدیک دادا کو ثلث، باقی ثلثين بھائیوں کے لئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سدس دادا کو باقی پانچ اسداس بھائیوں کے لئے۔
اگر کوئی میت دادا اور بھائی چھوڑ جائے تو سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کے نزدیک دادا کو ثلث، باقی ثلثين بھائیوں کے لئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سدس دادا کو باقی پانچ اسداس بھائیوں کے لئے۔
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى الْخياط، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ "يُقَاسِمُ بِالْجَدِّ مَعَ الْأَخِ وَالْأَخَوَيْنِ، فَإِذَا زَادُوا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ يُعْطِيهِ مَعَ الْوَلَدِ السُّدُسَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دادا کو ایک یا دو بھائی کے ساتھ تقسیم میں شریک کرتے تھے، اگر بھائی زیادہ ہوتے تو دادا کو ثلث دیتے اور اولاد کے ساتھ سدس دیتے۔
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ، اسْتَشَارَهُمْ فِي الْجَدِّ، فَقَالَ: "إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ فِي الْجَدِّ رَأْيًا، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تَتَّبِعُوهُ، فَاتَّبِعُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: إِنْ نَتَّبِعْ رَأْيَكَ فَإِنَّهُ رَشَدٌ، وَإِنْ نَتَّبِعْ رَأْيَ الشَّيْخِ، فَنِعْمَ ذُو الرَّأْيِ كَانَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان بن الحکم سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب نیزے سے زخمی ہوئے تو دادا کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا اور کہا کہ دادا کے بارے میں میری ایک رائے تھی، اگر تم چاہو تو پیروی کرنا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم آپ کی رائے کی پیروی کریں تو یہ راہِ ہدایت ہے اور اگر شیخ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی رائے مانیں تو وہ بھی بہت اچھی رائے والے تھے۔