حدیث نمبر: 2916
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: فِي زَوْجٍ، وَأُمٍّ، وَإِخْوَةٍ لِأَبٍ وَأُم، وَإِخْوَةٍ لِأُمٍّ، قَالَ: كَانَ عُمَر، وَعَبْدُ اللَّه، ِوَزَيْدٌ يُشَرِّكُونَ، وَقَالَ عُمَرُ: "لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے شوہر، ماں اور حقیقی و مادری بھائیوں کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا زید رضی اللہ عنہم سب بھائیوں کو وراثت کے حصہ میں شریک کرتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: باپ حقیقی بھائیوں کو مادری بھائیوں سے قریب کر دیتا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2914 سے 2916)
بہن بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں: (1) حقیقی: جن کے ماں باپ ایک ہوں، (2) پدری: جن کے والد ایک اور مائیں مختلف ہوں، (3) مادری: جن کی ماں ایک اور باپ مختلف ہوں۔
اور عصبہ سے مراد وہ رشتے دار ہیں جن کے حصے کتاب و سنّت میں مقرر نہیں، مختلف حالتوں میں ورثاء سے جو بچے وہ ان کے حصے میں آتا ہے، ان ہی عصبہ میں سے بھائی ہیں جو دیگر وارثین کی موجودگی میں جو بچ جائے اس کے وارث ہوتے ہیں، بعض علماء کے نزدیک صرف حقیقی بھائی عصبہ ہو کر حصہ لیں گے، اور بعض صحابہ و تابعین کے نزدیک حقیقی، مادری اور پدری سب بھائی اس مسئلہ میں شریک ہو کر اپنا حصہ لیں گے، اسی لئے اس مسئلہ کا نام مشرکہ رکھا گیا۔
صورتِ مذکور بالا جو اثر میں بیان ہوئی ہے اس میں ایک عورت نے اپنے پیچھے شوہر اور ماں اور حقیقی بھائی اور مادری بھائی چھوڑے تو تقسیم اس طرح ہوگی: شوہر . . . . 3 . . . . نصف
ماں . . . . 1 . . . . سدس
حقیقی بھائی . . . . 2 . . . . ثلث
مادری بھائی . . . . باقی جو بچاسب بھائیوں کے درمیان مساوی تقسیم ہوگا۔
بہن بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں: (1) حقیقی: جن کے ماں باپ ایک ہوں، (2) پدری: جن کے والد ایک اور مائیں مختلف ہوں، (3) مادری: جن کی ماں ایک اور باپ مختلف ہوں۔
اور عصبہ سے مراد وہ رشتے دار ہیں جن کے حصے کتاب و سنّت میں مقرر نہیں، مختلف حالتوں میں ورثاء سے جو بچے وہ ان کے حصے میں آتا ہے، ان ہی عصبہ میں سے بھائی ہیں جو دیگر وارثین کی موجودگی میں جو بچ جائے اس کے وارث ہوتے ہیں، بعض علماء کے نزدیک صرف حقیقی بھائی عصبہ ہو کر حصہ لیں گے، اور بعض صحابہ و تابعین کے نزدیک حقیقی، مادری اور پدری سب بھائی اس مسئلہ میں شریک ہو کر اپنا حصہ لیں گے، اسی لئے اس مسئلہ کا نام مشرکہ رکھا گیا۔
صورتِ مذکور بالا جو اثر میں بیان ہوئی ہے اس میں ایک عورت نے اپنے پیچھے شوہر اور ماں اور حقیقی بھائی اور مادری بھائی چھوڑے تو تقسیم اس طرح ہوگی: شوہر . . . . 3 . . . . نصف
ماں . . . . 1 . . . . سدس
حقیقی بھائی . . . . 2 . . . . ثلث
مادری بھائی . . . . باقی جو بچاسب بھائیوں کے درمیان مساوی تقسیم ہوگا۔
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ كَانَ "لَا يُشَرِّكُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حارث نے کہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب بھائیوں کو شریک نہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2918
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ: أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ يُشَرِّك، وَعَلِيٌّ كَانَ لا يُشَرِّكُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومجلز نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شریک کرتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ شریک نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ ذَكْوَانَ: "أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن ذکوان نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (سب بھائیوں کو) شریک کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شُرَيْح: "أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالملک بن عمیر نے کہا: (قاضی) شریح شریک کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيه: أَنَّ عُمَرَ قَالَ فِي الْمُشَرَّكَة: "لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن فیروز نے اپنے والد سے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشرکہ کے مسئلہ میں کہا: تینوں قسم کے بھائیوں میں باپ اور قربت پیدا کر دیتا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2916 سے 2921)
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا زید رضی اللہ عنہم اور قاضی شریح رحمہ اللہ وغیرہ حقیقی، علاتی اخیافی یعنی مادری و پدری سب بھائیوں کو شریک کرتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ شریک نہ کرتے تھے۔
اور صورت مسئلہ اس طرح بنے گی کہ ایک عورت خاوند، ماں (یا دادی)، مادری بھائیوں، اور ایک یا ایک سے زیادہ حقیقی بھائیوں کو چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس صورت میں مسئلہ 6 سے ہوگا، جن میں سے نصف یعنی 3 حصے خاوند کے، چھٹا یعنی ایک حصہ ماں کا، اور ایک تہائی یعنی دو حصے مادری بھائیوں کو، اور حقیقی بھائیوں کو کیونکہ وہ عصبہ ہیں کچھ نہ ملے گا، اور ترکہ کے اصحاب الفروض میں مکمل ہونے کی صورت میں عصبہ محروم ہوتے ہیں۔
خاوند . . . . نصف . . . . 3
ماں . . . . سدس . . . . 1
مادری بھائی . . . . ثلث . . . . 2
حقیقی بھائی . . . . کچھ نہیں
لیکن امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے حقیقی بھائی یا بھائیوں کو مادری بھائیوں کے حصہ تہائی میں شریک قرار دیا، لہٰذا سب یہی برابر تقسیم کریں گے، اور یہ ایک مخصوص صورت ہے جس میں حقیقی بھائی مادری بھائی کے مانند ہے، اور وراثت کے ایک تنہائی میں سب شریک ہوں گے، اس مسئلہ کو مشترکہ، مشترکہ حجریہ (اور عمریہ و حماریہ) بھی کہتے ہیں۔
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا زید رضی اللہ عنہم اور قاضی شریح رحمہ اللہ وغیرہ حقیقی، علاتی اخیافی یعنی مادری و پدری سب بھائیوں کو شریک کرتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ شریک نہ کرتے تھے۔
اور صورت مسئلہ اس طرح بنے گی کہ ایک عورت خاوند، ماں (یا دادی)، مادری بھائیوں، اور ایک یا ایک سے زیادہ حقیقی بھائیوں کو چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس صورت میں مسئلہ 6 سے ہوگا، جن میں سے نصف یعنی 3 حصے خاوند کے، چھٹا یعنی ایک حصہ ماں کا، اور ایک تہائی یعنی دو حصے مادری بھائیوں کو، اور حقیقی بھائیوں کو کیونکہ وہ عصبہ ہیں کچھ نہ ملے گا، اور ترکہ کے اصحاب الفروض میں مکمل ہونے کی صورت میں عصبہ محروم ہوتے ہیں۔
خاوند . . . . نصف . . . . 3
ماں . . . . سدس . . . . 1
مادری بھائی . . . . ثلث . . . . 2
حقیقی بھائی . . . . کچھ نہیں
لیکن امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے حقیقی بھائی یا بھائیوں کو مادری بھائیوں کے حصہ تہائی میں شریک قرار دیا، لہٰذا سب یہی برابر تقسیم کریں گے، اور یہ ایک مخصوص صورت ہے جس میں حقیقی بھائی مادری بھائی کے مانند ہے، اور وراثت کے ایک تنہائی میں سب شریک ہوں گے، اس مسئلہ کو مشترکہ، مشترکہ حجریہ (اور عمریہ و حماریہ) بھی کہتے ہیں۔