حدیث نمبر: 2899
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، وَإِنَّهُ قَالَ فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ: "لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کسی راستے میں ہمارے ساتھ ہوتے تو ہم اس کو آسان پاتے تھے، انہوں نے شوہر اور والدین کے حصہ کے بارے میں کہا کہ شوہر کو نصف اور ماں کو باقی مال کا ثلث ملے گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2898)
صورتِ مسألہ یوں بنی کہ ایک عورت کا انتقال ہوا، اس نے اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑے، تو کل مال کا نصف شوہر کو، اور باقی میں سے ثلث ماں کو، اور جو باقی بچے عصبہ کے طور پر باپ کو ملے گا، اور مسألہ 6 سے ہوگا۔
شوہر . . . . . 3
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2
مزید تفصیل اور وراثت کے دیگر مسائل آگے آ رہے ہیں۔
صورتِ مسألہ یوں بنی کہ ایک عورت کا انتقال ہوا، اس نے اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑے، تو کل مال کا نصف شوہر کو، اور باقی میں سے ثلث ماں کو، اور جو باقی بچے عصبہ کے طور پر باپ کو ملے گا، اور مسألہ 6 سے ہوگا۔
شوہر . . . . . 3
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2
مزید تفصیل اور وراثت کے دیگر مسائل آگے آ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 2900
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ امْرَأَتَهُ، وَأَبَوَيْهِ، فَقَالَ: "قَسَّمَهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ أَرْبَعَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید الرشک نے کہا: میں نے سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے پوچھا: آدمی اپنے پیچھے اپنی بیوی اور ماں باپ کو چھوڑے (تو میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟) انہوں نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس کی تقسیم چار سے کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2899)
یعنی یہاں مسلہ چار سے ہوگا، جس میں سے (1/4) ایک چوتھائی بیوی کا، اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی (1/3) یعنی ایک حصہ ماں کا، باقی دو حصے عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے ہوں گے۔
بیوی . . . . . 1
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2۔
یعنی یہاں مسلہ چار سے ہوگا، جس میں سے (1/4) ایک چوتھائی بیوی کا، اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی (1/3) یعنی ایک حصہ ماں کا، باقی دو حصے عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے ہوں گے۔
بیوی . . . . . 1
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2۔
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: "لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیوی اور ماں باپ کے مسئلے میں کہا: بیوی کو ربع (چوتھائی) اور ماں کو جو بچا اس کا تہائی ملے گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2900)
اس اثر سے مذکورہ بالا مسئلہ جو سعيد بن المسیب رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اس کی تائید ہوتی ہے، واضح رہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں صحابی علم الفرائض کے امام تھے۔
اس اثر سے مذکورہ بالا مسئلہ جو سعيد بن المسیب رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اس کی تائید ہوتی ہے، واضح رہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں صحابی علم الفرائض کے امام تھے۔
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ قَالَ: "لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ سَهْمٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ سَهْم، وَلِلأَبِّ سَهْمَانِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: بیوی کا حصہ چار میں سے چوتھائی ہوگا، اور ماں کے لئے چار میں سے جو بچا اس کا ثلث ایک تہائی، اور باپ کے دو حصے (یعنی دو تہائی) ہوں گے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2901)
اس سند سے مذکور بالا ایوب سختیانی رحمہ اللہ کی روایت کی تائید اور مزید توضیح ہوتی ہے۔
اس سند سے مذکور بالا ایوب سختیانی رحمہ اللہ کی روایت کی تائید اور مزید توضیح ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2903
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ: أَنَّهُ سَأَلَ الْحَارِثَ الْأَعْوَرَ عَنْ امْرَأَةٍ، وَأَبَوَيْنِ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُثْمَانَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمر بن سعید نے حارث الاعور سے پوچھا بیوی اور ماں باپ کے ورثے کے بارے میں تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا (مذکورہ بالا) مسئلہ بیان کر دیا۔
حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأَبَوَيْهَا: "لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں کہا جو اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑ جائے، شوہر کو آدھا، ماں کو جو بچا اس کا تہائی ملے گا۔
حدیث نمبر: 2905
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ: فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ، قَالَ: "مِنْ أَرْبَعَةٍ: لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِي، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر الشعبی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیوی اور ماں باپ کے حق وراثت کے بارے میں کہا: بیوی کے لئے کل مال کے چار میں سے چوتھا حصہ اور جو بچے اس کا ایک تہائی ماں کے لئے، اس سے جو بچا وہ باپ کا حصہ ہے۔ (یعنی: بیوی کا 1۔ ماں کا 1۔ اور باپ کو دو ملیں گے «كما مر آنفا»)
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا اتَّبَعْنَاهُ فِيهِ، وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، وَإِنَّهُ "قَضَى فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ مِنْ أَرْبَعَةٍ: فَأَعْطَى الْمَرْأَةَ الرُّبُع، وَالأُمَّ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَالْأَبَ سَهْمَيْنِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرف بھی جاتے اور ہم ان کی اتباع کرتے تو اس مسئلہ کو آسان پاتے تھے، انہوں نے بیوی اور ماں باپ کے ترکے میں فیصلہ کیا کہ چار سے مسئلہ ہوگا، چوتھائی بیوی کو، ماں کو ثلث (تہائی) جو بچا اس سے، اور باقی جو بچا دو حصے یہ باپ کے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عِيسَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی مثلِ سابق مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: "مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَانِي أَنْ أُفَضِّلَ أُمًّا عَلَى أَبٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: الله تعالیٰ مجھے نہ دکھائے کہ میں ماں کو باپ پر فوقیت دوں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2902 سے 2908)
مطلب اس اثر کا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دو حصے ملیں گے، اور ماں کو الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے میں ایک حصہ یعنی ثلث ہی ملے گا، الله تعالیٰ نہ کرے کہ میں ماں کو باپ پر فضیلت دے کر ماں کو زیادہ حصہ دلاؤں، یعنی ماں کو کل مال کا ایک تہائی دینے سے ماں کو دو ملیں گے اور باپ کو ایک حصہ ملے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی کہتے تھے، اس لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ردّ کیا۔
والله اعلم۔
مطلب اس اثر کا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دو حصے ملیں گے، اور ماں کو الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے میں ایک حصہ یعنی ثلث ہی ملے گا، الله تعالیٰ نہ کرے کہ میں ماں کو باپ پر فضیلت دے کر ماں کو زیادہ حصہ دلاؤں، یعنی ماں کو کل مال کا ایک تہائی دینے سے ماں کو دو ملیں گے اور باپ کو ایک حصہ ملے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی کہتے تھے، اس لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ردّ کیا۔
والله اعلم۔
حدیث نمبر: 2909
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "أَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَتَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِي ؟ فَقَالَ زَيْدٌ: إِنَّمَا أَنْتَ رَجُلٌ تَقُولُ بِرَأْيِكَ، وَأَنَا رَجُلٌ أَقُولُ بِرَأْيِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں ماں کے لئے جو بچ جائے اس کا ثلث پاتے ہو؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ بھی آدمی ہیں، اپنی رائے سے اس بارے میں فتویٰ دیتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں اپنی رائے سے کہتا ہوں۔
حدیث نمبر: 2910
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَحَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُمَا قَالَا فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ: "لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے خاوند کے ساتھ ماں باپ کے مسئلہ میں کہا: خاوند کو نصف اور ماں کے لئے کل مال کا ثلث اور جو بچے وہ باپ کا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2908 سے 2910)
یعنی کل مال کے چھ حصے، تین حصے شوہر کے، دو ماں کے ایک تہائی کل مال کا، اور ایک حصہ باپ کا۔
یعنی کل مال کے چھ حصے، تین حصے شوہر کے، دو ماں کے ایک تہائی کل مال کا، اور ایک حصہ باپ کا۔
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "لِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ، وَفِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (اس مسئلہ میں) کہا: ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی ہے چاہے بیوی کے ساتھ ماں باپ ہوں یا شوہر کے ساتھ ماں باپ ہوں۔
یعنی: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی انہوں نے اس مسئلہ میں تائید کی ہے۔
یعنی: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی انہوں نے اس مسئلہ میں تائید کی ہے۔
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: خَالَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْلَ الْقِبْلَةِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: "جَعَلَ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: بیوی اور ماں باپ کے مسئلہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اہلِ قبلہ کی مخالفت کی ہے کیوں کہ انہوں نے ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی حصہ قرار دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2910 سے 2912)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی حصہ خاص کیا۔
دیگر تمام صحابہ و تابعین اس مسئلہ میں بیوی یا شوہر کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی ماں کے لئے قرار دیتے ہیں، اور جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اثر گذرا ہے یہ مسألہ اجتہادی تھا، اس لئے کسی نے کل مال کا ایک تہائی ماں کے لئے خاص کیا اور کسی نے دونوں کے حصے کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی خاص کیا، اس مسئلہ کو مسئلۂ عمریہ کہتے ہیں اور راجح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہی مسلک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی حصہ خاص کیا۔
دیگر تمام صحابہ و تابعین اس مسئلہ میں بیوی یا شوہر کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی ماں کے لئے قرار دیتے ہیں، اور جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اثر گذرا ہے یہ مسألہ اجتہادی تھا، اس لئے کسی نے کل مال کا ایک تہائی ماں کے لئے خاص کیا اور کسی نے دونوں کے حصے کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی خاص کیا، اس مسئلہ کو مسئلۂ عمریہ کہتے ہیں اور راجح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہی مسلک ہے۔