کتب حدیثسنن دارميابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا معمولی جزء ہے“
حدیث نمبر: 2881
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ (دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کا (اپنی گرمی اور ہلاکت خیزی میں) سترواں حصہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2880)
صحیحین میں ہے: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا کہ دنیاوی آگ جہنم کی آگ کا ستّرواں حصہ ہے تو صحابہ میں سے کسی نے پوچھا: یا رسول الله! عذاب کے لئے تو یہ دنیاوی آگ بھی بہت تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی آگ کے مقابلہ میں جہنم کی آگ انہتر درجہ اور بڑھ کر ہے۔
اس سے معلوم ہوا اس آگ کی ہولناکی اور تمازت اور ہلاکت کا عالم کیا ہوگا۔
(اعاذنا اللہ منہا)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرقاق / حدیث: 2881
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الهجري وهو: إبراهيم بن مسلم. وأبو عياض هو: عمرو بن الأسود
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الهجري وهو: إبراهيم بن مسلم. وأبو عياض هو: عمرو بن الأسود، [مكتبه الشامله نمبر: 2889]» ¤ اس روایت کی سند الہجری: ابراہیم بن مسلم کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3265] ، [مسلم 2843] ، [ابن حبان 7462] ، [موارد الظمآن 2608] ، [مسند الحميدي 1163]