حدیث نمبر: 2875
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا". قَالُوا: وَمَا هِيَ، قَالَ: "كُثْبَانٌ مِنْ مِسْكٍ يَخْرُجُونَ إِلَيْهَا فَيَجْتَمِعُونَ فِيهَا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ رِيحًا فَتُدْخِلُهُمْ بُيُوتَهُمْ، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا، وَيَقُولُونَ لِأَهْلِيهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جنت میں ایک بازار ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مشک کی خوشبو والے ریت کے دو ٹیلے ہیں، لوگ وہاں جائیں گے اور اس میں جمع ہونگے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایک ہوا چلائے گا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگی (جب وہ لوٹ کر آئیں گے) تو ان کی بیویاں کہیں گی: ہمارے پاس سے جانے کے بعد تمہارے حسن و جمال میں بہت اضافہ ہو گیا، اور وہ اپنی بیویوں سے کہیں گے: تم بھی ہمارے بعد ایسے ہی ہوگئیں (یعنی حسن و جمال میں مزید نکھار آ گیا)۔“
حدیث نمبر: 2876
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مذکور بالا حدیث کی طرح روایت ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2874 سے 2876)
مسلم شریف میں ہے: ہر جمعہ کے دن بہشتی (جنتی) لوگ جمع ہوا کریں گے، پھر شمالی ہوا چلے گی اور وہاں کا گرد و غبار (جو مشک اور زعفران ہے) ان کے چہروں اور کپڑوں پر پڑے گا تو ان کا حسن و جمال دوبالا ہو جائے گا ... إلخ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں بازار بھی ہوگا۔
مسلم شریف میں ہے: ہر جمعہ کے دن بہشتی (جنتی) لوگ جمع ہوا کریں گے، پھر شمالی ہوا چلے گی اور وہاں کا گرد و غبار (جو مشک اور زعفران ہے) ان کے چہروں اور کپڑوں پر پڑے گا تو ان کا حسن و جمال دوبالا ہو جائے گا ... إلخ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں بازار بھی ہوگا۔