کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے (جنت میں) جو تیار کیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2863
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز و جل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ تیار کیا ہے جو آنکھ نے دیکھا نہیں، کان نے سنا نہیں، اور کسی آدمی کے دل پر گذرا نہیں (یعنی تصور میں بھی نہ آیا ہو)، اگر چاہو تو یہ پڑھ لو: «﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾» (سجده 17/32) ترجمہ: کوئی نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی ہے، جو کچھ وہ عمل کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2862)
قرآن پاک اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے کہ الله تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے جنّت میں اتنی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا، اس سے جنّت اور اس کی نعمتوں کا وجود بھی ثابت ہوا، نیز یہ کہ یہ محض خیال اور وہم نہیں۔
قرآن پاک اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے کہ الله تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے جنّت میں اتنی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا، اس سے جنّت اور اس کی نعمتوں کا وجود بھی ثابت ہوا، نیز یہ کہ یہ محض خیال اور وہم نہیں۔