حدیث نمبر: 2859
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الأعراف آية 43، قَالَ: "نُودُوا: صِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا، وَانْعَمُوا فَلَا تَبْؤُسُوا، وَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا، وَاخْلُدُوا فَلَا تَمُوتُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا: «﴿وَنُوْدُوْا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُوْرِثْتُمُوْهَا . . . . . . . .﴾» (اعراف: 43/7) ترجمہ: (اور ان کو پکارا جائے گا کہ یہ جنت تم کو تمہارے اعمال کے بدلے دی گئی ہے)، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان سے پکار کر کہا جائے گا: تمہارے لئے یہ مقرر کیا گیا ہے کہ صحت مند رہو، اور تم کبھی بیمار نہ ہوگے، عیش و چین کرو، تمہیں کوئی رنج و غم نہ ہوگا، جوان رہو، بوڑھے بھی نہ ہوگے اور ہمیشہ ہمیش رہو گے، مروگے نہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2858)
جنّت میں مؤمنین کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ان میں سے یہ چند صفات اس حدیث میں مذکور ہیں کہ وہاں عیش ہی عیش ہوگا، کوئی غم، بیماری اور موت نہ ہوگی بلکہ وہاں سب ہمیشہ جوان، تر و تازہ، صحت مند اور خوش حال رہیں گے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من أهل الجنة» آمین۔
جنّت میں مؤمنین کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ان میں سے یہ چند صفات اس حدیث میں مذکور ہیں کہ وہاں عیش ہی عیش ہوگا، کوئی غم، بیماری اور موت نہ ہوگی بلکہ وہاں سب ہمیشہ جوان، تر و تازہ، صحت مند اور خوش حال رہیں گے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من أهل الجنة» آمین۔