حدیث نمبر: 2843
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ". قَالُوا: سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: "سِوَايَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن ابی الجدعاء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت سے بنوتمیم سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے“، لوگوں نے عرض کیا: آپ کے علاوہ یا رسول اللہ!، فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2842)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کتنے خوش نصیبوں کو قیامت کے دن الله تعالیٰ کے حکم سے شفاعت کی اجازت ہوگی اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
یہ مرتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کتنے خوش نصیبوں کو قیامت کے دن الله تعالیٰ کے حکم سے شفاعت کی اجازت ہوگی اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
یہ مرتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا۔