کتب حدیثسنن دارميابوابباب: بیمار کے اجر و ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقَالَ: "إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ"، قَالَ: قُلْتُ: ذَلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ؟، قَالَ: "أَجَلْ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، أَوْ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حُطَّ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بخار میں مبتلا تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو شدید بخار کی تکلیف ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمی کو ہوتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یہ اس لئے کہ آپ کا اجر بھی دوگنا ہے؟ فرمایا: ”ہاں (ایسا ہی ہے) اور کسی بھی مسلمان کو کسی مرض کی یا اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2805)
اس حدیث میں تمام مؤمنین کے لیے تسلی اور اطمینان کی تعلیم اور بشارت ہے کہ جب سید الانبیاء بھی شدت میں مبتلا ہیں تو کسی بھی مؤمن کو مصیبت و پریشانی آ سکتی ہے، اس پر انہیں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ جتنا قربِ الٰہی زیادہ ہوگا تکالیف و مصائب زیادہ آئیں گے، اور نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے رہیں گے، اور گناہ معاف ہوتے رہیں گے، اور بیمار کو بیماری کی حالت میں بھی جو وہ اچھے کام صحت کی حالت میں کیا کرتا تھا ان کا ثواب ملتا رہے گا۔
مزید تفصیل رقم (2818) میں آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرقاق / حدیث: 2806
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2813]» ¤ اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5647] ، [مسلم 2571] ، [أبويعلی 5164] ، [ابن حبان 2937] ، [موارد الظمآن 701]