حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَوْ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے یا جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے، پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2803)
اس سے مراد وہ بخار ہے جو صفراء کے جوش سے چڑھ آئے، اس میں ٹھنڈے پانی سے نہانا یا ہاتھ پاؤں کا دھونا مفید ہے، اسے آج کی ڈاکٹری نے بھی تسلیم کیا ہے، شدید بخار میں برف کا استعمال بھی اسی قبیل سے ہے، اور مروجہ ڈاکٹری کا ایک شعبۂ علاج پانی سے بھی ہے جو کافی ترقی پذیر ہے، ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الله تعالیٰ نے جمیع علومِ نافعہ کا خزانہ بنا کر مبعوث فرمایا تھا، چنانچہ فنِ طبابت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ اصول اس قدر جامع ہیں کہ کوئی بھی عقل مند ان کی تردید نہیں کر سکتا۔
(مولانا راز رحمہ اللہ)۔
اس سے مراد وہ بخار ہے جو صفراء کے جوش سے چڑھ آئے، اس میں ٹھنڈے پانی سے نہانا یا ہاتھ پاؤں کا دھونا مفید ہے، اسے آج کی ڈاکٹری نے بھی تسلیم کیا ہے، شدید بخار میں برف کا استعمال بھی اسی قبیل سے ہے، اور مروجہ ڈاکٹری کا ایک شعبۂ علاج پانی سے بھی ہے جو کافی ترقی پذیر ہے، ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الله تعالیٰ نے جمیع علومِ نافعہ کا خزانہ بنا کر مبعوث فرمایا تھا، چنانچہ فنِ طبابت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ اصول اس قدر جامع ہیں کہ کوئی بھی عقل مند ان کی تردید نہیں کر سکتا۔
(مولانا راز رحمہ اللہ)۔