کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا : ”جس آدمی کو میں نے لعنت کی اور برا بھلا کہا“
حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ، أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَرَحْمَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! میں انسان ہوں تو جس مسلمان کو میں لعنت کروں یا برا کہوں یا ماروں تو اس کو اس کے لئے صلاة و رحمت اور قربت بنادے جس کے ذریعہ وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے۔“
حدیث نمبر: 2801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ"زَكَاةً وَرَحْمَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی مروی ہے لیکن اس میں «زكاة و رحمة» ہے، یعنی ”میرے برا بھلا کہنے کو ان کے لئے پاکی اور رحمت بنا دے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2799 سے 2801)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کسی مؤمن پر لعنت نہیں کی، تواضعاً ایسا کہا کہ بتقاضائے بشریت اگر یہ امر سرزد ہوا ہو تو الله تعالیٰ اس کو اس مسلمان کے حق میں رحمت و نعمت اور قربت بنا دے۔
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر ہونا ثابت ہوا، نیز یہ کہ ہر انسان بشر سے غلطی سرزد ہو سکتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا صرف مسلمانوں کے لئے ہے، کافروں کے لئے نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کسی مؤمن پر لعنت نہیں کی، تواضعاً ایسا کہا کہ بتقاضائے بشریت اگر یہ امر سرزد ہوا ہو تو الله تعالیٰ اس کو اس مسلمان کے حق میں رحمت و نعمت اور قربت بنا دے۔
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر ہونا ثابت ہوا، نیز یہ کہ ہر انسان بشر سے غلطی سرزد ہو سکتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا صرف مسلمانوں کے لئے ہے، کافروں کے لئے نہیں۔