حدیث نمبر: 2798
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَعُودُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عیاض بن غطیف نے کہا: ہم عیادت کے لئے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”نیکی کا ثواب اس جیسی دس نیکیوں کا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2797)
قرآن پاک میں ہے: «﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [الانعام: 160]» یعنی جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنے ملیں گے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور مومنین کے ساتھ کرم گستری ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا، یہ کم سے کم اجر ہے، ورنہ قرآن و حدیث میں کئی سو بلکہ بعض نیکیوں کا اجر ہزاروں بلکہ لاکھوں گنا تک ملے گا۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [الانعام: 160]» یعنی جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنے ملیں گے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور مومنین کے ساتھ کرم گستری ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا، یہ کم سے کم اجر ہے، ورنہ قرآن و حدیث میں کئی سو بلکہ بعض نیکیوں کا اجر ہزاروں بلکہ لاکھوں گنا تک ملے گا۔