حدیث نمبر: 2797
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَوْ حَبَسَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ أُمَّتِي عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ أُنْزِلَ، لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ: هُوَ بِنَوْءِ مِجْدَحٍ" . يقَالَ: الْمِجْدَحُ كَوْكَبٌ . يُقَالُ لَهُ: الدَّبَرَانُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر الله تعالیٰ دس سال تک میری امت سے بارش کو روک لے پھر بارش برسا دے تو میری امت میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر ہو جائے اور وہ کہنے لگیں کہ: یہ مجدح تارے کی وجہ سے ہے۔“
کہا جاتا ہے کہ مجدح ایک کوکب ہے جس کو دبران کہا جاتا ہے۔ (دورِ جاہلیت میں عرب کا عقیدہ تھا کہ مجدح کی وجہ سے بارش ہوتی ہے)۔
کہا جاتا ہے کہ مجدح ایک کوکب ہے جس کو دبران کہا جاتا ہے۔ (دورِ جاہلیت میں عرب کا عقیدہ تھا کہ مجدح کی وجہ سے بارش ہوتی ہے)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2796)
اس حدیث میں ایمان کی حقیقت اور نزاکت کا ذکر ہے، نیز یہ کہ معمولی بات کہنے سے انسان مومن ہو جاتا ہے یا کافر، یہ کہنا کہ فلاں برج یا فلاں ستارہ مفید ہے اور اس کے اچھے یا برے اثرات ہیں کفر میں داخل ہے، سب اللہ کی مخلوق ہیں، بذاتِ خود کسی میں تصرف کی طاقت و قوت نہیں ہے، سب کچھ اللہ کے حکم سے ہی ظہور پذیر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو ایمان کی حقیقت سمجھنے کی اور کفر و شرک اور بدعت سے دور رہنے کی توفیق بخشے، آمین۔
اس حدیث میں ایمان کی حقیقت اور نزاکت کا ذکر ہے، نیز یہ کہ معمولی بات کہنے سے انسان مومن ہو جاتا ہے یا کافر، یہ کہنا کہ فلاں برج یا فلاں ستارہ مفید ہے اور اس کے اچھے یا برے اثرات ہیں کفر میں داخل ہے، سب اللہ کی مخلوق ہیں، بذاتِ خود کسی میں تصرف کی طاقت و قوت نہیں ہے، سب کچھ اللہ کے حکم سے ہی ظہور پذیر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو ایمان کی حقیقت سمجھنے کی اور کفر و شرک اور بدعت سے دور رہنے کی توفیق بخشے، آمین۔