حدیث نمبر: 2792
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ: سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری بزرگی اور جلالت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، آج کے دن میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2791)
اللہ کے لئے محبت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محبت الله جل جلالہ کے تعمیلِ حکم اور اس کی رضامندی کے لئے ہو، جیسے دین داروں سے محبت، متقی و پرہیزگاروں سے محبت، عالموں سے محبت وغیرہ، آپس میں باہمی محبت کی فضیلت اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔
اللہ کے لئے محبت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محبت الله جل جلالہ کے تعمیلِ حکم اور اس کی رضامندی کے لئے ہو، جیسے دین داروں سے محبت، متقی و پرہیزگاروں سے محبت، عالموں سے محبت وغیرہ، آپس میں باہمی محبت کی فضیلت اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔