حدیث نمبر: 2787
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں ڈرتا ہوں اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں سے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2786)
گمراه اماموں میں داخل ہے وہ حاکم جو قرآن کے خلاف حکم دے، اور قانونِ عقلی پر چلے، اور انفصال مقدمات میں قواعدِ عقلیہ کو ضوابطِ تقلید پر مقدم رکھے، اور ترویجِ بدعات و تنشیر سیئات اور احداث في الدین اور تاویہ مبتدعین اعزاز فاسقین کا مرتکب ہو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے، اور اپنی رعایا کو کتاب و سنّت کے مطابق نہ کھینچے۔
«معاذ اللّٰه من ذٰلك» (وحیدی)۔
گمراه اماموں میں داخل ہے وہ حاکم جو قرآن کے خلاف حکم دے، اور قانونِ عقلی پر چلے، اور انفصال مقدمات میں قواعدِ عقلیہ کو ضوابطِ تقلید پر مقدم رکھے، اور ترویجِ بدعات و تنشیر سیئات اور احداث في الدین اور تاویہ مبتدعین اعزاز فاسقین کا مرتکب ہو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے، اور اپنی رعایا کو کتاب و سنّت کے مطابق نہ کھینچے۔
«معاذ اللّٰه من ذٰلك» (وحیدی)۔