حدیث نمبر: 2780
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے تم میں سے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ (یوں کہنا چاہیے) وہ بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو، کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے زیادہ تیز ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2779)
اس حدیث میں حفاظِ قرآن کے لئے برابر قرآن کریم پڑھتے رہنے کی ترغیب مثال دے کر سمجھائی گئی ہے، جو لسانِ نبوت کا بہت ہی بلیغانہ انداز ہے، اگر قرآن پاک کو پڑھنا ترک کیا تو جلد ہی بھول جائے گا، میں بھول گیا کہنے سے اس لئے روکا گیا کیونکہ اللہ ہی بندے کے تمام افعال کا خالق ہے گو بندے کی طرف بھی افعال کی نسبت کی جاتی ہے، مقصود یہ ہے کہ اپنی طرف نسبت دینے میں گویا اپنا اختیار رہتا ہے کہ میں بھول گیا۔
اس حدیث میں حفاظِ قرآن کے لئے برابر قرآن کریم پڑھتے رہنے کی ترغیب مثال دے کر سمجھائی گئی ہے، جو لسانِ نبوت کا بہت ہی بلیغانہ انداز ہے، اگر قرآن پاک کو پڑھنا ترک کیا تو جلد ہی بھول جائے گا، میں بھول گیا کہنے سے اس لئے روکا گیا کیونکہ اللہ ہی بندے کے تمام افعال کا خالق ہے گو بندے کی طرف بھی افعال کی نسبت کی جاتی ہے، مقصود یہ ہے کہ اپنی طرف نسبت دینے میں گویا اپنا اختیار رہتا ہے کہ میں بھول گیا۔