کتب حدیثسنن دارميابوابباب: دو بھوکے بھیڑیوں کا بیان
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
کعب بن مالک نے اپنے والد (سیدنا مالک انصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا: انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ بھی اتنا فساد برپا نہ کریں (خرابی نہ کریں) جتنا مال اور جاہ کی حرص آدمی کے دین کو خراب کرتی ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2764)
یعنی مال اور عزت و مرتبہ کی حرص آدمی اور اس کے دین کے لئے بھوکے بھیڑیوں سے زیادہ خطرناک اور دین کو تباہ و برباد کر دینے والی ہیں، اس لئے مال اور جاہ کی حرص و طمع سے بچنا چاہیے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرقاق / حدیث: 2765
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2772]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2376] ، [ابن حبان 3228] ، [موارد الظمآن 2472، وله شاهد عند الطبراني 96/19، 189] و [شعب الايمان للبيهقي 10265، وغيرهم]