حدیث نمبر: 2758
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عَمْرٍو أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي، وَلَمْ يَكُنْ يَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ" . قَالَ قَالَ أَبُو إِسْحَاق: فَحَدَّثْتُ أَبَا بُرْدَةَ , وَأَبَا بَكْرٍ ابْنَيْ أَبِي مُوسَى، قَالَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری زبان گھر والوں کیلئے بے لگام تھی (جو زبان پر آتا بک دیتے) لیکن ان کے علاوہ کسی اور سے بد کلامی نہ کرتے تھے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس بارے میں (ندامت سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم استغفار سے کہاں ہو؟ یعنی استغفار کیوں نہیں کرتے؟ میں تو خود الله تعالیٰ سے ہر دن سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں۔“
ابواسحاق نے کہا: میں نے سیدنا ابوبردہ اور سیدنا ابوبکر ابنی ابی موسیٰ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی تو دونوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر دن اللہ سے سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں اور کہتا ہوں: «استغفر اللّٰھ و أتوب إليه» ۔“
ابواسحاق نے کہا: میں نے سیدنا ابوبردہ اور سیدنا ابوبکر ابنی ابی موسیٰ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی تو دونوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر دن اللہ سے سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں اور کہتا ہوں: «استغفر اللّٰھ و أتوب إليه» ۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2757)
استغفار: مغفرت طلب کرنے کو کہتے ہیں۔
توبہ و استغفار ہر شخص کو ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے۔
یہ ہمارے پیغمبر سید الانبیاء و المرسلین ہیں جن کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف، جو بخشے بخشائے، پھر بھی ستر بار اور سو سو بار استغفار کرتے تھے۔
الله تعالیٰ کا بھی فرمان ہے: «﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ﴾ [نوح: 10]» ایک جگہ فرمایا: «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الأنفال: 33]» ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ انہیں آپ کے ہوتے ہوئے عذاب دے، اور الله تعالیٰ انہیں اس حال میں بھی عذاب نہ دے گا کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔
“ یعنی جو لوگ استغفار کرتے رہیں عذاب میں مبتلا نہ ہوں گے۔
استغفار: مغفرت طلب کرنے کو کہتے ہیں۔
توبہ و استغفار ہر شخص کو ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے۔
یہ ہمارے پیغمبر سید الانبیاء و المرسلین ہیں جن کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف، جو بخشے بخشائے، پھر بھی ستر بار اور سو سو بار استغفار کرتے تھے۔
الله تعالیٰ کا بھی فرمان ہے: «﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ﴾ [نوح: 10]» ایک جگہ فرمایا: «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الأنفال: 33]» ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ انہیں آپ کے ہوتے ہوئے عذاب دے، اور الله تعالیٰ انہیں اس حال میں بھی عذاب نہ دے گا کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔
“ یعنی جو لوگ استغفار کرتے رہیں عذاب میں مبتلا نہ ہوں گے۔