حدیث نمبر: 2745
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا . قَالَ: "اتَّقِ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَقِمْ". قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ ؟ . قَالَ: فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتایئے کہ میں کسی اور سے اس کے بارے میں نہ پوچھوں۔ فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور استقامت اختیار کرو۔“ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کون سی چیز ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا (یعنی اس کو قابو میں رکھو اور اس کی حفاظت کرو)۔
حدیث نمبر: 2746
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي: ابْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ . قَالَ: "قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَكْثَرُ مَا تَخَوَّفُ عَلَيَّ ؟ . قَالَ: فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِهِ ثُمَّ قَالَ: "هَذَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی بات بتلایئے جس کو میں مضبوطی سے تھامے رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو اللہ میرا رب ہے، پھر اسی پر جمے رہو“، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو زیادہ ڈر میرے اوپر کس چیز کا ہے؟ سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: ”اس کا۔“
حدیث نمبر: 2747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ . قَالَ: "مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ (یعنی مسلمانوں میں کون سب سے بہتر ہے؟) فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2744 سے 2747)
ان تمام احادیث سے زبان کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ زبان کے سبب انسان جنت کا مستحق ہوتا ہے اور زبان کی وجہ سے جہنم رسید ہوتا ہے، اس لئے زبان سے اچھی بات نکلنی چاہے، ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص الله تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
جھوٹ، غیبت، چغلی، بری بات، گالی گلوج، فحش و گندے گانے اور گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرنی لازمی ہے۔
مزید فصیل آگے آ رہی ہے۔
ان تمام احادیث سے زبان کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ زبان کے سبب انسان جنت کا مستحق ہوتا ہے اور زبان کی وجہ سے جہنم رسید ہوتا ہے، اس لئے زبان سے اچھی بات نکلنی چاہے، ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص الله تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
جھوٹ، غیبت، چغلی، بری بات، گالی گلوج، فحش و گندے گانے اور گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرنی لازمی ہے۔
مزید فصیل آگے آ رہی ہے۔